اور اگر رحم کریں ہم ان پر اوردور کر دیں ہم وہ جو ان کے ساتھ ہیں تکلیفیں تو ضرور اصرار کریں گے اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے (75) اور البتہ تحقیق پکڑا تھا ہم نے انھیں ساتھ عذاب کے، پس نہ عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے اور نہ وہ گڑگڑاتے ہی ہیں (76)یہاں تک کہ جب کھول دیا ہم نے ان پر دروازہ سخت عذاب کا تو اسی وقت وہ اس (حالت) میں ناامید ہونے والے ہو گئے (77)
[75] یہ ان کے شدید تمرد کا بیان ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس کو دور کرنے کی دعا مانگتے ہیں تاکہ وہ ایمان لے آئیں یا اللہ تعالیٰ ان کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ جب ان کی تکلیف دور کر دیتا ہے تو پھر سرکشی اختیار کر لیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی سرکشی میں سرگرداں اور اپنے کفر میں متردد اور حیرت زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ان کا حال بیان کیا ہے کہ اس وقت وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ان ہستیوں کو بھول جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور جب اللہ تعالیٰ ان کو اس صورت سے نجات دیتا ہے تو پھر زمین میں شرک کرتے ہوئے بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں ۔
[76]﴿وَلَقَدۡ اَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو پکڑ لیا ساتھ عذاب کے۔‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے وہ قحط مراد ہے جس میں وہ سات سال تک مبتلا رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مصیبت میں اس لیے ڈالا تاکہ وہ تذلل اور اطاعت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کریں مگر اس چیز نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ ان میں سے کوئی کامیاب ہوا۔ ﴿ فَمَا اسۡتَكَانُوۡا لِرَبِّهِمۡ﴾ پس وہ اپنے رب کے سامنے جھکے نہ انھوں نے فروتنی اختیار کی۔﴿وَ مَا يَتَضَرَّعُوۡنَ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے نہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھا بلکہ قحط آیا اور گزر گیا مگر وہ اپنی گمراہی اور کفر پر قائم رہے گویا ان پر کوئی مصیبت آئی ہی نہ تھی۔
[77] مگر ان کے پیچھے ایک ایسا عذاب ہے جسے روکا نہیں جا سکتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ حَتّٰۤى اِذَا فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا۔‘‘ جیسے بدر کے روز ان کا قتل کیا جانا ﴿ اِذَا هُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ ﴾ تب وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جاتے ہیں ان کے پاس شر اور اس کے اسباب پہنچ چکے ہیں ، لہٰذا انھیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب نازل ہونے سے پہلے پہلے اپنا بچاؤ کرلیں ایسا عذاب جسے روکا نہیں جا سکتا۔ اس کے برعکس عام عذاب بسااوقات ان سے روک لیا جاتا ہے جیسے دنیاوی سزائیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تادیب کرتا ہے۔ اس قسم کی سزاؤں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(الروم:30؍41) ’’خشکی اور سمندروں میں لوگوں کی کرتوتوں کی وجہ سے فساد برپا ہوگیا تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں ۔‘‘