اور بلاشبہ آپ البتہ بلاتے ہیں ان کو طرف راہ راست (اسلام) کی (73)اوربلاشبہ وہ لوگ کہ نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ آخرت کے، (وہ اس) راہ سے البتہ انحراف کرنے والے ہیں (74)
[74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام اسباب کا ذکر کیا ہے جو ایمان کے موجب ہیں اسی طرح تمام موانع ایمان کا ذکر کیا ہے اور فرداً فرداً ان کے فساد کو واضح کیا ہے۔ پس موانع ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ منکرین حق کے دل غفلت اور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں ، انھوں نے قرآن میں غور و فکر نہیں کیا، وہ اپنے آباء و اجداد کی تقلید پر جمے ہوئے ہیں اور اپنے رسول (ﷺ) کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں جنون لاحق ہے جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر ہو چکا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا، جو موجب ایمان ہیں اور وہ ہیں قرآن میں تدبر کرنا، اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو قبول کرنا، رسول مصطفیﷺ کے احوال اور آپ کے کمال صدق و امانت کی معرفت حاصل کرنا، نیز یہ کہ آپ ان سے کسی قسم کے اجر و صلہ کے طلب گار نہیں آپ کی کوشش تو صرف لوگوں کے فائدے اور مصالح کے لیے ہے اور جس راستے کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ سیدھا راستہ ہے۔ سیدھا ہونے کی بنا پر تمام لوگوں کے لیے نہایت آسان اور منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے قریب ترین راستہ ہے۔ نرمی اور آسانی پر مبنی دین حنیف ہے، یعنی توحید میں حنیفیت اور اعمال میں آسانی۔پس آپ کا ان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دینا، اس شخص کے لیے جو حق کا ارادہ رکھتا ہے، اس بات کا موجب ہے کہ وہ آپ کی اتباع کرے کیونکہ یہ ایسا راستہ ہے جس کے اچھا اور انسانی مصالح کے موافق ہونے کی شہادت عقل صحیح اور فطرت سلیم بھی دیتی ہے… اگر وہ آپﷺ کی اتباع نہیں کرتے تو کہاں جائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کو اختیار کرکے آپ کی اتباع سے مستغنی ہو جائیں کیونکہ ﴿عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوۡنَ ﴾ وہ صراط مستقیم سے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے، انحراف کرنے والے ہیں ان کے پاس ضلالت و جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔ یہی معاملہ ہر اس شخص کا ہے جو حق کی مخالفت کرتا ہے، وہ لازمی طور پر تمام معاملات میں راہ راست سے منحرف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ١ؕ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ ﴾(القصص:28؍50) ’’اور اب اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے۔ تو سمجھ لیجیے کہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کررہے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش نفس کی پیروی کرے۔‘‘