اور (اللہ) وہی ہے جس نے پیدا کیے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اوردل، تھوڑا ہی شکر کرتے ہو تم (78) اور وہی ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں اوراسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے (79) اور وہی ہے جو زندہ کرتااور مارتا ہےاور اسی (کے حکم) سے ہے ادل بدل کر آنا رات اور دن کا، کیا پس نہیں سمجھتے تم؟ (80)
[78] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتا ہے جو انھیں اس کے شکر اور اس کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دیتی ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَ لَكُمُ السَّمۡعَ ﴾ ’’اور وہی ہے جس نے پیدا کیے تمھارے لیے کان۔‘‘ تاکہ مسموعات کا ادراک کرسکو اور اس طرح تم اپنے دین و دنیا میں فائدہ اٹھا سکو ﴿ وَالۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’اور آنکھیں ‘‘ تاکہ مرئیات کا ادراک کرسکو اور اپنے مصالح میں ان سے فائدہ اٹھا سکو۔ ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ﴾ ’’اور دل۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں عقل سے نوازا تاکہ تم اس کے ذریعے سے اشیاء کا ادراک کر سکو اور جانوروں سے ممتاز ہو سکو۔ اگر تم سماعت، بصارت اور عقل سے محروم ہو جاؤ بایں طو ر کہ تم بہرے، اندھے اور گونگے ہو جاؤ تو تمھارا کیا حال ہو؟ اور تم کن کن ضروریات اور کون کون سے کمالات سے محروم ہوکر رہ جاؤ؟ کیا تم اس ہستی کا شکر نہیں کرتے جس نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ تم اس کی توحید اور اطاعت پر قائم رہتے؟ مگر اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی پے درپے نعمتوں کے باوجود، تم اس کا بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
[79]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمھیں مختلف سمتوں میں زمین کے کناروں تک پھیلایا اور تمھیں زمین کے فوائد اور مصالح حاصل کرنے کی قدرت عطا کی اور زمین کو تمھاری معاش اور رہائش کے لیے کافی کر دیا۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور (مرنے کے بعد) تم اسی کے پاس اکٹھے كيے جاؤ گے‘‘ اور زمین پر تم جس خیر و شر کا ارتکاب کرتے رہے ہو اس کا بدلہ پاؤ گے اور زمین، جس پر تم آباد تھے، تمھاری خبریں بیان کرے گی۔
[80]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَلَهُ اخۡتِلَافُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ﴾ یعنی شب و روز کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا اسی کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے آرام و سکون کے لیے تمھیں رات واپس لا دے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون ہے جو تمھیں دن کی روشنی واپس لا دے؟ کیا تم دیکھتے نہیں ؟ ﴿ وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص:28؍73) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم آرام کر سکو اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کر سکو اور شاید تم اللہ تعالیٰ کا شکر کرو۔‘‘بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا تم عقل نہیں رکھتے؟‘‘ کہ تم یہ پہچان سکو کہ وہ ہستی جس نے تمھیں سماعت و بصارت اور عقل جیسی نعمتیں عطا کیں ، جس اکیلے نے تمھیں زمین پر پھیلایا، وہ ہستی جو اکیلی زندگی اور موت پر اختیار رکھتی ہے اور جو اکیلی رات اور دن پر تصرف کرتی ہے، یہ بات اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ تم خالص اسی کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں اور ان تمام ہستیوں کی عبادت چھوڑ دو، جو کسی قسم کا کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کسی چیز میں تصرف کی مالک ہی ہیں بلکہ وہ ہر لحاظ سے عاجز ہیں اگر تم میں ذرہ بھر بھی عقل ہوتی تو تم کبھی بھی ان کی عبادت نہ کرتے۔