Tafsir As-Saadi
23:84 - 23:89

آپ کہہ دیجیے! کس کے لیے ہے زمین اور جو (مخلوق) اس میں ہے اگر ہو تم جانتے ؟ (84) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دیجیے! کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (85) کہہ دیجیے! کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا اور رب عرش عظیم کا؟ (86) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (87)کہہ دیجیے! کون ہے جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور وہی پناہ دیتا ہے اور نہیں پناہ دی جاسکتی اس کے مقابلے میں اگر ہو تم جانتے؟ (88) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! پس کہاں سے جادو کیے جاتے ہو تم؟ (89)

[85,84] یعنی زندگی بعد الموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے، جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دلیل بناتے ہوئے، اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو، مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر، جوکہ اس سے آسان تر ہے، برہان ٹھہراتے ہوئے، کہیے! ﴿ لِّمَنِ الۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهَاۤ ﴾ یعنی زمین اور زمین کی تمام مخلوقات، حیوانات، نباتات، جمادات، سمندروں ، دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا، ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے؟ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہی جواب دیں گے ’’صرف اللہ‘‘! جب وہ اس حقیقت کا اقرار کرلیں تو آپ ان سے کہیے! ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس چیز کی طرف رجوع نہیں کرتے جس کی یاددہانی تمھیں اللہ تعالیٰ نے کروائی ہے جس کا تمھیں علم ہے جو تمھاری فطرت میں راسخ ہے البتہ اعراض بسااوقات اسے ذہن سے غائب کر دیتا ہے … حقیقت یہ ہے کہ اگر تم مجرد تھوڑے سے غور و فکر کے ذریعے سے، اپنی اس یاددہانی کی طرف رجوع کرو تو تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس تمام کائنات کا مالک ہی اکیلا معبود ہے اور وہ ہستی جو مملوک ہے، اس کی الوہیت سب سے بڑا باطل ہے۔
[87,86] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی بڑی دلیل کی طرف منتقل ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ ﴾ ’’کہہ دیجیے سات آسمانوں کا رب کون ہے؟‘‘ اور ان کے اندر ستاروں ، سیاروں ، کواکب اور ثوابت کا رب کون ہے؟ ﴿ وَرَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور عرش عظیم کا رب کون ہے‘‘ جو تمام مخلوقات سے زیادہ بلند، سب سے وسیع اور سب سے بڑا ہے؟ وہ کون ہے جس نے اس پورے نظام کی تخلیق کی پھر اس کی تدبیر کی اور وہ مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے؟ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو ان سے کہیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس تم (عاجز اور بے بس مخلوق کی عبادت سے ) بچتے کیوں نہیں ؟‘‘ اس کے برعکس تم رب عظیم کی عبادت سے، جو کامل قدرت اور عظیم قوت کا مالک ہے، دور بھاگتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں خطاب کا ایسا اسلوب ہے جو لطف و کرم پر مبنی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ میں نظر آتا ہے، نیز اس میں وعظ و نصیحت کا ایسا پیرایہ ہے جو انتہائی دلکش ہے۔
[89,88] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۢۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ (الملکوت)اقتدار اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔ ﴿ وَّهُوَ يُجِيۡرُ ﴾ ’’وہ شر سے پناہ دیتا ہے‘‘ اپنے بندوں کو ، ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انھیں ضرر پہنچاتی ہیں ﴿وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ ﴾ کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں ۔ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ ﴿قُلۡ﴾ جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاَنّٰى تُسۡحَرُوۡنَ﴾ ’’پھر تم کہاں سے جادو کر دیے جاتے ہو؟‘‘ یعنی پھر تمھاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہیں اور تم نے مالک عظیم، قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمھاری راہ نمائی کی ہے، سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں ۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کر دیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کرکے خوبصورت بنا کر دکھایا، حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کر دیا جس طرح جادوگر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیتے ہیں ۔