آپ کہہ دیجیے! اے میرے رب! اگر تو دکھلادے مجھے وہ جو وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (93) اے میرے رب! پس نہ کرنا مجھے ظالم لوگوں میں (94) اور بلاشبہ ہم اس (بات) پر، کہ ہم دکھلائیں آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کر رہے ہیں ہم ان سے، البتہ قادر ہیں (95)
[95-93] چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل و براہین قائم کر دیے مگر انھوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ﴿ قُلۡ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّيۡ مَا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی اے رب! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے ﴿ رَبِّ فَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ فِي الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اے میرے رب! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔‘‘ یعنی اے میرے رب! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے ذریعے سے تو نے ان کفار کو آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے اس عذاب سے بھی بچا لے جو ان پر نازل ہوگا کیونکہ عذاب عام جب نازل ہوتا ہے تو نیک اور بد سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے قریب ہونے کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿ وَاِنَّا عَلٰۤى اَنۡ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمۡ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس بات پر کہ ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا وعدہ ہم ان سے کرتے ہیں ، یقینا قادر ہیں ۔‘‘ لیکن اگر ہم اس عذاب کو موخر کرتے ہیں تو کسی حکمت کی بنا پر، ورنہ ہم اس عذاب کو واقع کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں ۔