Tafsir As-Saadi
23:96 - 23:98

ٹالیے ساتھ اس (طریقے) کے کہ وہ اچھا ہے، برائی کو۔ ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو وہ بیان کرتے ہیں (96)اور کہیں ، اے میرے رب! میں تیری پناہ میں آتا ہوں وسوسوں سے شیطانوں کے (97) اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اے میرے رب! اس سے کہ وہ حاضر ہوں میرے پاس (98)

[96] یہ ان مکارم اخلاق میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ) کو حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ السَّيِّئَةَ ﴾ ’’دور کریں برائی کو اس طریقے سے جو احسن ہو۔‘‘ یعنی جب آپﷺ کے دشمن قول و فعل کے ذریعے سے آپ کے ساتھ برائی سے پیش آئیں تو آپ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئیں ، ہرچند کہ برائی کا بدلہ اسی قسم کی برائی سے دینا جائز ہے مگر آپ ان کے برے سلوک کے بدلے میں ، ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں یہ آپﷺ کی طرف سے برا سلوک کرنے والے پر احسان ہے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ حال اور مستقبل میں آپﷺ کی طرف سے برائی میں تخفیف ہوگی۔ آپ کا یہ حسن سلوک آپ کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے کو حق کی طرف لانے میں زیادہ ممد ثابت ہوگا۔ آپ کا حسن سلوک برائی سے پیش آنے والے کو ندامت، تاسف اور توبہ کے ذریعے سے بدسلوکی سے رجوع کرنے کے زیادہ قریب لے آئے گا۔ معاف کرنے والے کو احسان کی صفت سے متصف ہونا چاہیے ، اس سے وہ اپنے دشمن شیطان پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور رب کریم کی طرف سے ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾(حم السجدۃ:41؍34،35) ’’آپ برائی کو ایسی نیکی کے ذریعے سے روكيے جو بہترین ہو تب آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص، جس کی آپ کے ساتھ عداوت ہے، آپ کا جگری دوست بن جائے گا اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی (یعنی خلق جمیل کی توفیق)مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور اس صفت سے بہرہ مند نہیں ہوتے مگر وہ لوگ جو بہت بڑے نصیب کے مالک ہیں ۔‘‘﴿نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان باتوں کو جو کفر اور تکذیب حق کو متضمن ہیں ہمارے علم نے ان کی باتوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں حلم سے کام لیا، ہم نے ان کو مہلت دی اور ہم نے ان کے بارے میں صبر کیا ہے۔ حق ہمارے لیے ہے اور ان کی تکذیب بھی ہماری طرف لوٹتی ہے۔ اے محمد! (ﷺ) آپ کے لیے مناسب یہ ہے کہ آپ ان کی اذیت ناک باتوں پر صبر کریں اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں انسانوں کی طرف سے برے سلوک کے مقابلے میں بندۂ مومن کا یہی وظیفہ ہے۔
[98,97] رہی شیاطین کی بدسلوکی تو ان کے ساتھ حسن سلوک کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ شیاطین تو اپنے گروہ کے لوگوں کو دعوت دیتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ جہنم میں جھونکے جانے والوں میں شامل ہو جائیں ۔پس شیطان کی بدسلوکی کے مقابلے میں بندۂ مومن کا وظیفہ وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی راہ نمائی فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِكَ ﴾ یعنی میں اپنی قدرت و قوت سے براء ت کا اظہار کرکے تیری قدرت و قوت کی پناہ پکڑتا ہوں ۔ ﴿ مِنۡ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيۡنِۙ۰۰ وَاَعُوۡذُ بِكَ رَبِّ اَنۡ يَّحۡضُرُوۡنِ ﴾ یعنی میں اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو ان شیاطین سے ملنے جلنے کی وجہ سے مجھے لاحق ہو سکتا ہے، نیز میں ان کی وسوسہ اندازی اور ایذارسانی سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اور میں اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو ان کی موجودگی اور ان کی وسوسہ اندازی کے باعث مجھے لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ استعاذہ ہر قسم کے شر اور اس کی اصل سے پناہ طلبی ہے اس میں شیطان کی دراندازی، اس کا وسوسہ اور اس کی ایذارسانی وغیرہ سب داخل ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول کرکے اسے شیطان کے شر سے پناہ دے دیتا ہے تو بندہ ہر شر سے محفوظ و مصئون ہو جاتا ہے اور اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا ہو جاتی ہے۔