کیا گمان کیا تھا تم نے یہ کہ پیدا کیا ہم نے تمھیں بے فائدہ اور یہ کہ بے شک تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟ (115) پس برتر ہے اللہ، بادشاہ سچا، نہیں کوئی (اور) معبود سوائے اس کے، (وہ) رب ہے عرش کریم کا (116)
[116,115]﴿ اَفَحَسِبۡتُمۡ ﴾ یعنی اے مخلوق! ’’کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے‘‘ کہ ﴿ اَنَّمَا خَلَقۡنٰكُمۡ عَبَثًا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں بے فائدہ اور باطل پیدا کیا ہے‘‘ کہ تم کھاؤ، پیو، زمین پر اکڑ کر چلو اور دنیا کی لذتوں سے متمتع ہوتے رہو اور ہم تمھیں یونہی چھوڑ دیں گے۔ ہم تمھیں کسی چیز کا حکم دیں گے نہ تمھیں منع کریں گے، تمھیں ثواب عطا کریں گے نہ تمھیں عذاب دیں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَّاَنَّـكُمۡ اِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴾’’اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟‘‘ یہ بات تمھارے دل ہی میں نہ آئے۔﴿ فَتَعٰلَى اللّٰهُ ﴾ یعنی اس گمان باطل سے اللہ بہت بڑا اور بلندتر ہے جو اس کی حکمت میں قادح ہے۔ ﴿الۡمَلِكُ الۡحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’وہ حقیقی بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش کریم کا رب ہے۔‘‘ اس کا تمام مخلوق کا مالک ہونا حق ہے وہ اپنے صدق، اپنے وعدہ اور وعید میں حق ہے، وہ محبوب اور معبود ہے کیونکہ وہ ہر کمال کا مالک ہے۔﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡكَرِيۡمِ ﴾ ’’وہ عرش کریم کا رب ہے۔‘‘ پھر اس سے کم تر مخلوق کا تو بدرجہ اولیٰ رب ہے۔ یہ چیز مانع ہے اس سے کہ وہ تمھیں عبث پیدا کرے۔