Tafsir As-Saadi
24:6 - 24:10

اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں اپنی بیویوں پر اور نہیں ہیں ان کے لیے گواہ (اس پر) مگر وہ خود ہی، پس گواہی ایک کی ان میں سے، چار بار گواہیاں ہیں ساتھ اللہ کی قسم کے کہ بے شک وہ شخص البتہ سچوں میں سے ہے (6)اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک لعنت ہے اللہ کی اس پر اگر ہو وہ شخص جھوٹوں میں سے (7) اور ٹال دے گی اس عورت سے سزا یہ کہ گواہی دے وہ عورت چار گواہیاں ساتھ اللہ کی قسم کے، بلاشبہ وہ شخص البتہ جھوٹوں میں سے ہے (8) اور پانچویں (مرتبہ) یہ کہ بے شک غضب ہو اللہ کا اس (عورت) پر اگر ہو وہ (مرد) سچوں میں سے (9)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور رحمت اس کی اور یہ کہ بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ، حکمت والا ہے (تو جھوٹوں کو سزا ملتی)(10)

[7,6] اس لیے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر‘‘ یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر ، جو بیویاں ہوں ﴿ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ہوں ان کے لیے‘‘ اس الزام پر ﴿ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’اپنے سوا کوئی اور گواہ‘‘ جنھیں وہ اپنے اس الزام پر اپنا گواہ بنا سکیں ۔ ﴿ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمۡ اَرۡبَعُ شَهٰدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک کی گواہی چار گواہیاں دینی ہیں اللہ کی کہ وہ سچا ہے۔‘‘ (یعنی اپنی سچائی پرچار قسمیں کھائے۔) اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو (شہادت) کہا ہے کیونکہ یہ قسمیں گواہوں کے قائم مقام ہیں ، قسمیں اٹھانے والا یہ الفاظ کہتا ہے:’’میں اللہ کو گواہ بنا کر گواہی دیتا ہوں کہ، میں نے جو الزام لگایا ہے، میں اس میں سچا ہوں ۔‘‘﴿وَالۡخَامِسَةُ اَنَّ لَعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹا ہو۔‘‘ یعنی ان گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے، ان مذکورہ گواہیوں کے ساتھ پانچویں مرتبہ اپنے لیے لعنت کی بددعا کرے۔ جب لعان مکمل ہو جائے تو اس سے قذف کی حد ساقط ہو جائے گی۔ آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ اس نے اپنی بیوی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے تبعاً اس کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ (یعنی اس کی طرف سے بھی اس خاوند پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔)شوہر کے لعان کرنے اور بیوی کے لعان کرنے سے گریز کرنے پر، کیا بیوی پر حد جاری کی جائے گی یا اس کو قید کیا جائے گا؟ اس بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں ۔ وہ رائے جس کی تائید دلیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے گی، جیسے فرمایا:﴿ وَيَدۡرَؤُا عَنۡهَا الۡعَذَابَ اَنۡ تَشۡهَدَ اَرۡبَعَ شَهٰؔدٰؔتٍۭؔ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس عورت کے چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر یہ کہنے سے کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے، اس سے سزا کو ٹال دے گا۔‘‘ یہاں اگر ’’عذاب‘‘ سے مراد وہ حد نہ ہوتی جو شوہر کے لعان کی وجہ سے واجب ہوئی ہے تو عورت کا لعان اس عذاب کو ہٹا نہ سکتا ۔
[9,8] اور عورت سے عذاب کو دور کردیا جائے گا جب وہ شوہر کی گواہیوں کا اسی جیسی گواہیوں کے ذریعے سے مقابلہ کرے گی ﴿ وَالۡخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيۡهَاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’وہ چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔‘‘ اور پانچویں گواہی میں ، جو ان چار گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے ہے، اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے غضب کی دعا کرے گی۔پس جب اس طرح ان کے مابین لعان مکمل ہو جائے گا تو ہمیشہ کے لیے ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے گا اور شوہر سے بچے کے نسب کی نفی ہو جائے گی۔آیات کریمہ کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ مرد اور عورت کی طرف سے لعان انھی مذکورہ الفاظ اور ترتیب سے مشروط ہے، ان میں کمی بیشی یا ردوبدل جائز نہیں ، نیز لعان صرف شوہر کے ساتھ مختص ہے، جب وہ اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے مگر اس کی بیوی ایسا نہیں کر سکتی۔ لعان کے لیے بچے میں مشابہت معتبر نہیں ، جس طرح ’’فراش‘‘ (یعنی نکاح) کی موجودگی میں معتبر نہیں ، مشابہت تو صرف وہاں معتبر ہے جہاں مشابہت کے سوا کوئی اور ترجیح دینے والی چیز نہ ہو تو وہاں مشابہت یقینا معتبر ہو گی۔
[10]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيۡمٌ ﴾ شرط کا جواب محذوف ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل نہ ہوتا تو دونوں لعان کرنے والوں میں سے جھوٹے پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا جس کی اس نے دعا کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ اس نے یہ حکم نازل فرمایا جو میاں بیوی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس حکم کی سخت ضرورت تھی، نیز اس نے تمھارے سامنے زنا اور قذف کی قباحت اور شدت کو واضح کیا اور اس نے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کو مشروع فرمایا۔

چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہr پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصۂ افک کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح، سنن اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کسی غزوہ میں تھے، آپ کے ساتھ آپ کی زو جۂ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابو بکر صدیقw بھی تھیں ۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا، وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ، حضرت عائشہr کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان کو ہودج میں حضرت عائشہr کی عدم موجودگی کا علم نہ ہوا اور لشکر کوچ کر گیا۔ حضرت عائشہr ہار کی تلاش کے بعد واپس اس جگہ پہنچیں تو لشکر موجود نہ تھا۔ حضرت عائشہr کو معلوم تھا کہ جب لشکر والے انھیں ہودج میں مفقود پائیں گے تو واپس لوٹیں گے۔ پس انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور صفوان بن معطل سلمیt افاضل صحابہ میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے لشکر کے آخری لوگوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سوتے رہ گئے تھے۔ انھوں نے حضرت عائشہ r کو دیکھا تو پہچان لیا حضرت صفوانt نے اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عائشہ r کو اس پر سوار کرایا۔ انھوں نے حضرت عائشہ r سے کوئی بات کی نہ حضرت عائشہ r نے ان سے کوئی بات کی، پھر وہ حضرت عائشہ r کی سواری کی مہار پکڑے دوپہر کے وقت جبکہ لشکر بھی پڑاؤ کے لیے اتر چکا تھا، پڑاؤ میں پہنچ گئے۔پس جب منافقین میں سے، جو اس سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھے، کسی نے حضرت صفوانt کو اس حالت میں حضرت عائشہ صدیقہr کے ساتھ آتے دیکھا تو اس نے بہتان طرازی کی خوب اشاعت کی، بات پھیل گئی، زبانیں ایک دوسرے سے اخذ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ بعض مخلص مومن بھی دھوکہ کھا گئے اور وہ بھی بات پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ پر طویل مدت تک وحی نازل نہ ہوئی بہت مدت کے بعد حضرت عائشہ r کو منافقین کے بہتان کا علم ہوا اس پر انھیں شدید صدمہ پہنچا، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عائشہ r کی براء ت میں یہ آیات کریمہ نازل فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور ان کو مفید وصیتوں سے سرفراز کیا۔