بے شک وہ لوگ جو گھڑ لائے ہیں جھوٹ (بہتان) ایک گروہ ہے تم ہی میں سے نہ گمان کرو تم اسے برا اپنے لیےبلکہ وہ بہتر ہے تمھارے لیے واسطے ہر شخص کے ان میں سے (سزا ہے اس کی) جو کمایا اس نے گناہ سےاور وہ شخص جس نے اٹھایا بڑا بوجھ اس (گناہ) کا ان میں سے، اس کے لیے عذاب عظیم ہے (11) کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس کو، خیال کیا مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک (خیال) ؟ اور (کیوں نہیں ) کہا انھوں نے یہ تو جھوٹ (بہتان) ہے ظاہر؟ (12) کیوں نہیں لائے وہ اس (الزام) پر چار گواہ؟ پس جب نہیں لائے وہ گواہ تو وہی لوگ اللہ کے ہاں جھوٹے ہیں (13) اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو البتہ پہنچتا تمھیں اس بارے میں کہ مشغول ہوئے تم اس (بات) میں ، عذاب عظیم(14)جب ایک دوسرے سے لیتے تھے تم اس کو ساتھ اپنی زبانوں کے اور کہتے تھے تم ساتھ اپنے مونہوں کے وہ (بات) کہ نہیں تھا تمھیں اس کا کوئی علم اور گمان کرتے تھے تم اسے معمولی، جبکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی (بات) ہے (15) اور کیوں نہیں جب سنا تم نے اس کو، کہا تم نے نہیں لائق ہمارے یہ کہ کلام کریں ہم ساتھ اس بات کے، پاک ہے تو (اے اللہ!)یہ تو بہتان ہے بہت ہی بڑا (16) نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ اس سے کہ دوبارہ کرو تم اس جیسی بات کبھی بھی، اگر ہو تم مومن (17) اور بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں (اپنی ) اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (18) بلاشبہ وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں یہ کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ، ان کے لیے عذاب ہے نہایت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت، (تو وہ عذاب دے دیتا) اور بلاشبہ اللہ نہایت شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے (20)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ پیروی کرو تم قدموں کی شیطان کے اورجو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی، پس بلاشبہ وہ حکم کرتا ہے بے حیائی اور برے کام ہی کااور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو نہ پاک ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ خوب سنتا، جانتا ہے (21) اور نہ قسم کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے اس (بات) سے کہ وہ دیں (اپنے مال) قرابت داروں اور مسکینوں اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اوردرگزر کریں ، کیا نہیں پسند کرتے تم یہ کہ بخش دے اللہ تمھیں ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (22)بلاشبہ وہ لوگ جو (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر، ملعون ہیں وہ دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے (23) جس دن شہادت دیں گی ان پر (ان کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ساتھ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) اس دن پورا دے گا انھیں اللہ بدلہ ان کا پورا پورا ہی اور وہ جان لیں گے کہ بے شک اللہ، وہی حق ہے، (حق کو) بیان کرنے والا (25) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں ، او ر پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں یہ (پاکیزہ) لوگ بری ہیں ان سے جو وہ (خبیث لوگ ان کی بابت) کہتے ہیں ، ان کے لیے بخشش ہے اور رزق عزت والا (26)
[11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصۡبَةٌ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ١ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِيۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔
[12] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انھیں کیا کرنا چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا﴾ ’’کیوں نہیں ، جب سنا تم نے اس (بہتان) کو، گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔‘‘ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہوناجو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان، ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔﴿ وَّقَالُوۡا ﴾ ’’اور وہ کہتے‘‘ یعنی اس حسن ظن کی بنا پر: ﴿سُبۡحٰنَكَ﴾ اے اللہ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے قبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔﴿ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔‘‘ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا، سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براء ت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔
[13]﴿ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَؔ ﴾ یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور معتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ ﴿ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ اگرچہ انھیں اس بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں ۔ (کیونکہ انھوں نے چار گواہ پیش نہیں كيے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (فاولٰئک ھم الکاذبون) ’’وہ جھوٹے ہیں ‘‘ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر، اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں ۔
[14]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور اگر دنیا و آخرت میں (تمھارے دینی اور دنیاوی امور میں ) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی‘‘ ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ ﴾ ’’تو ضرور پہنچتا تمھیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔‘‘ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو﴿ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بہت بڑا عذاب۔‘‘ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہو گئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ اور اس کی بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے تمھارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔
[15]﴿ اِذۡ تَلَقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ۠ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے… حالانکہ وہ باطل قول تھا۔﴿ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَيۡسَ لَكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم ہی نہیں تھا۔‘‘ دونوں امور حرام ہیں ، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا﴾ ’’اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے ، اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے۔﴿ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجر وتوبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہو جاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
[16]﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلۡتُمۡ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔‘‘
[17]﴿ يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِـمِثۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں ، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ﴾(النساء: 4؍58) ’’اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم مومن ہو۔‘‘ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔
[18]﴿ وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔‘‘ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔
[19]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ ﴾ ’’جو لوگ بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو﴿ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اہل ایمان میں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی۔صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہو گا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں ، مثلاً: فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا، خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں ۔یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ، نیز انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لاعلم تھے۔
[20]﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔‘‘ جس نے تمھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے ﴿وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‘‘ تو وہ تمھارے سامنے یہ احکام، مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا، نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا، جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمھارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کر سکتے۔
[21] جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) ’’شیطان کے نقش قدم‘‘ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّتَّبِـعۡ خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ فَاِنَّهٗ﴾ ’’اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ‘‘ یعنی شیطان﴿ يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’حکم دیتا ہے فحشاء کا۔‘‘ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’اور منکر کا‘‘ اور (منکر)وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ ’’تزکیہ‘‘ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں ۔ نبی مصطفی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا‘ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔‘‘(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘
[22]﴿ وَلَا يَاۡتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِي الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ﴾ ’’جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ، رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ۔‘‘ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہt بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیقt کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہt کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق t نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔پس فرمایا: ﴿ا َلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیقt نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ’’کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطحt کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذين يحبون ان تشيع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔
[23] پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ﴾ ’’وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’بے خبر، مومن عورتوں پر۔‘‘ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوۡا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔‘‘ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔
[24]﴿ يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ جس قیامت کے روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہو گا۔ یقینا وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا كيے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔
[25]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ ﴾ ’’اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہو گا جو عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف:18؍49) ’’اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انھوں نے جو عمل كيے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس عظیم مقام پر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے، انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوصاف عظیم حق ہیں ، اس کے افعال حق ہیں ، اس کی عبادت حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں ۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔
[26]﴿ اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ۠ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہ السلام ، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (ﷺ)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔