اور البتہ تحقیق نازل کیں ہم نے تمھاری طرف آیتیں واضح اور کچھ حال ان لوگوں کا جو گزر چکے پہلے تم سےاور نصیحت واسطے پرہیز گاروں کے (34)
[34] یہ ان آیات کریمہ کی قدرومنزلت اور تعظیم ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر تلاوت فرمائی تاکہ وہ ان کی قدروقیمت کو پہچان لیں اور ان کے حقوق کو قائم کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ ﴾ ’’اور ہم نے نازل کیں تمھاری طرف آیات واضح کرنے والی ۔‘‘ یعنی وہ اصولی اور فروعی ہر معاملے میں ، جن کے تم محتاج ہو، اس طرح واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ کوئی اشکال اور شبہ باقی نہیں رہتا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس طرح نازل کیں ہم نے ﴿مَثَلًا مِّنَ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾’’ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزرے۔‘‘ یعنی ہم نے تمھاری طرف تم سے پہلے گزرے ہوئے اچھے برے لوگوں ، ان کے اعمال اور ان کے ساتھ جو کچھ ہوا… کی خبریں نازل کیں ، جن کو مثال بنا کر تم عبرت حاصل کر سکتے ہو، یعنی جو کوئی ان جیسے افعال کا ارتکاب کرے گا اس کو وہی جزا دی جائے گی جو ان لوگوں کو دی گئی۔﴿ وَمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ یعنی اور ہم نے تمھاری طرف اہل تقویٰ کے لیے نصیحت نازل کی ہے جو وعد و وعید اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہے۔ اہل تقویٰ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں اور ان امور سے رک جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے اور ایسے امور اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ۔