Tafsir As-Saadi
24:36 - 24:38

(یہ چراغ اور قندیلیں ہیں ) ان گھروں میں کہ حکم دیا ہے اللہ نے یہ کہ بلند کیے جائیں وہ اور ذکر کیا جائے ان میں نام اللہ کا تسبیح کرتے ہیں واسطے اس کے ان (گھروں ) میں صبح اورشام (36)وہ مرد کہ نہیں غافل کرتی انھیں تجارت اور نہ خریدو فروخت اللہ کے ذکر سےاور قائم کرنے سے نماز کےاور ادا کرنے سے زکاۃ کے، وہ ڈرتے ہیں اس دن سے کہ الٹ جائیں گے اس میں دل اور آنکھیں (37)(وہ یہ کام کرتے ہیں ) تاکہ جزا دے انھیں اللہ بہترین اس کی جو عمل کیے انھوں نے اور وہ زیادہ دے انھیں اپنے فضل سےاور اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہتا ہے، بغیر حساب کے (38)

[36] یعنی اللہ کی عبادت کی جاتی ہے ﴿ فِيۡ بُيُوۡتٍ ﴾ ’’گھروں میں ‘‘ یعنی فضیلت اور عظمت والے گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کو زمین کے سب ٹکڑوں سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ مساجد ہیں ۔ ﴿ اَذِنَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وصیت کی ہے ﴿ اَنۡ تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ﴾ ’’کہ انھیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔‘‘ ان دو امور میں مساجد کے احکام جمع کر دیے گئے ہیں ۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر، ان میں جھاڑو دینا، ان کو نجاستوں سے پاک رکھنا، ان کو بچوں اور فاتر العقل لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاست سے نہیں بچتے، کفار سے محفوظ رکھنا ان کو لغویات اور ذکر الٰہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ رکھنا، شامل ہیں ۔ ﴿ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ﴾ذکر میں فرض و نفل ہر قسم کی نماز، قراء ت قرآن، تسبیح و تہلیل اور دیگر اذکار، علم کی تعلیم و تعلم، علمی مذاکرہ، اعتکاف اور دیگر عبادات جن کو مساجد میں سرانجام دیا جاتا ہے، سب شامل ہیں ۔ اسی لیے مساجد کی آبادی دو اقسام پر مشتمل ہے۔(۱)مساجد کی تعمیر اور ان کی حفاظت کے ساتھ ان کو آباد رکھنا۔(۲) نماز اور ذکر الٰہی وغیرہ سے مساجد کو آباد رکھنا… دونوں اقسام میں یہ قسم افضل ہے اسی لیے نماز پنجگانہ اور جمعہ کو مساجد میں مشروع کیا گیا ہے۔ اکثر اہل علم کے نزدیک یہ حکم وجوب کے طور پر ہے اور بعض دیگر علماء کے نزدیک مستحب ہے۔
[37] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح کی ہے جو عبادت کے ذریعے مساجد کو آباد کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ان میں ۔‘‘ اخلاص کے ساتھ ﴿ بِالۡغُدُوِّ ﴾ ’’دن کے ابتدائی حصے میں ‘‘ ﴿ وَالۡاٰصَالِ﴾’’اور دن کے آخری حصے میں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان دو اوقات کو ان کے شرف و فضیلت کی بنا پر مخصوص کیا ہے، نیز ان دو اوقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سفر آسان اور سہل ہوتا ہے۔ اس تسبیح میں نماز وغیرہ داخل ہیں ، اس لیے تمام اذکار اور اوراد صبح اور شام کے اوقات میں مشروع كيے گئے ہیں ۔﴿ رِجَالٌ﴾ یعنی ان مساجد میں ، ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو اپنے رب پر دنیا، اس کی لذتوں ، تجارت، کاروبار اور اللہ سے غافل کر دینے والے کسی مشغلے کو ترجیح نہیں دیتے۔ ﴿ لَّا تُلۡهِيۡهِمۡ تِجَارَةٌ ﴾ ’’ان کو غفلت میں نہیں ڈالتی کوئی تجارت۔‘‘ اور یہ ہر اس کسب کو شامل ہے جس میں معاوضہ لینا مقصود ہو تب اس صورت میں ﴿ وَّلَا بَيۡعٌ ﴾ کا جملہ، عام پر عطف خاص کے باب میں سے ہے کیونکہ دیگر کاموں کی نسبت خریدوفروخت میں زیادہ مشغولیت پائی جاتی ہے۔پس یہ لوگ، اگرچہ تجارت کرتے ہیں ، خریدوفروخت کرتے ہیں … کیونکہ اس میں کوئی ممانعت نہیں … مگر یہ تمام کام انھیں غافل نہیں کرتے کہ وہ ان امور کو ﴿ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءِ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے‘‘ پر ترجیح دیتے ہوئے ان کو مقدم رکھیں بلکہ اس کے برعکس ان کی غایت مراد اور نہایت مقصود یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کریں ۔ اس اطاعت و عبادت اور ان کے درمیان جو چیز بھی حائل ہو، وہ اسے دور پھینک دیتے ہیں ۔چونکہ اکثر نفوس کے لیے دنیا کا ترک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، مختلف انواع کی تجارت اور مکاسب سے انھیں شدید محبت ہوتی ہے، غالب حالات میں ان امور کو ترک کرنا ان پر گراں گزرتا ہے اور ان امور پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کو مقدم رکھنے سے انھیں بہت تکلیف پہنچتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے اس کی طرف دعوت دی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يَخَافُوۡنَ يَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِيۡهِ الۡقُلُوۡبُ وَالۡاَبۡصَارُ﴾ اس روز شدت ہول اور قلب و بدن کے دہشت زدہ ہونے کے باعث دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پتھرا جائیں گی، اس لیے وہ اس دن سے ڈرتے ہیں ، بنابریں ان کے لیے عمل کرنا اور عمل سے غافل کرنے والے امور کو ترک کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
[38]﴿ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے۔‘‘ (احسن ماعملوا) سے مراد ان کے اعمال حسنہ اور اعمال صالحہ ہیں کیونکہ یہ ان کے بہترین اعمال ہیں کیونکہ وہ مباح اور دیگر اعمال بجا لاتے ہیں ۔ ثواب صرف اسی عمل پر عطا ہوتا ہے جو عمل حسن کے زمرے میں آتا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(الزمر:39؍35) ’’تاکہ جو بدترین عمل انھوں نے كيے ہیں اللہ ان کو ان کے حساب سے مٹا دے اور جو انھوں نے بہترین عمل كيے ہیں ، ان کے مطابق ان کو اجر عطا فرمائے۔‘‘ ﴿وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ یعنی وہ ان کے اعمال کے مقابلے میں بہت زیادہ جزا عطا کرے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے روزی عطا فرماتا ہے۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر عطا کرے گا کہ اس کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے اور اس کی آرزو کی بھی وہاں تک رسائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اسے بغیر کسی شمار اور بغیر کسی ناپ تول کے اجر عطا کرے گا… اور یہ بہت زیادہ کثرت کے لیے کنایہ ہے۔
یہ دو مثالیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کے بطلان، ان کے اکارت جانے اور ان اعمال کو سرانجام دینے والوں کی حسرت ظاہر کرنے کے لیے بیان فرمائی ہیں ، چنانچہ فرمایا: