بلاشبہ ہے بات مومنوں کی، جب بلائے جاتے ہیں وہ طرف اللہ اور اس کے رسول کی تاکہ وہ فیصلہ کرے درمیان ان کے،یہ کہ کہتے ہیں وہ، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نےاور یہ لوگ، وہی ہیں فلاح پانے والے (51) اور جو شخص اطاعت کرے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور وہ ڈرے اللہ سے اور تقویٰ اختیار کرے اس کا، پس یہ لوگ ، وہی ہیں کامیاب (52)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے احکام شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد، اہل ایمان، جو مدح کے مستحق ہیں ، کا حال بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی حقیقی مومن جنھوں نے اپنے اعمال کے ذریعے اپنے ایمان کی تصدیق کی جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے خواہ یہ فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے یا مخالف﴿ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾ ’’وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔‘‘ یعنی ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کوسنا اور جس نے ہمیں اس فیصلے کی طرف بلایا ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہا اور ہم نے مکمل طور پر بغیر کسی تنگی کے، اس کی اطاعت کی۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر فلاح کو منحصر قرار دیا ہے کیونکہ فلاح سے مراد ہے مطلوب و مقصود کے حصول میں کامیابی اور امر مکروہ سے نجات… صرف وہی شخص فلاح پا سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو حَکَم اور ثالث بناتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔
[52] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اطاعت، خاص طور پر حکم شریعت کی اطاعت کی فضیلت بیان کی تو تمام احوال میں اطاعت کی فضیلت کا عمومی تذکرہ کیا اور فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور جو اطاعت کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی۔‘‘ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی خبر کی تصدیق اور ان کے حکم کی تعمیل کرتا ہے﴿ وَيَخۡشَ اللّٰهَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرتا ہے کہ اس کا یہ خوف معرفت سے مقرون ہوتا ہے، بنابریں وہ منہیات کو ترک کر دیتا ہے اور خواہشات نفس کی تعمیل سے باز آجاتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَيَتَّقۡهِ ﴾اور تقویٰ اختیار کرتے ہوئے محظورات کو چھوڑ دیتا ہے کیونکہ تقویٰ سے، علی الاطلاق، مراد ہے مامورات کی تعمیل کرنا اور منہیات کو چھوڑ دینا اور جب یہ نیکی اور اطاعت سے مقرون ہو… جیسا کہ اس مقام پر ہے… تب اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو چھوڑ کر اس کے عذاب سے بچنا ہے۔﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ ، جو اطاعت الٰہی، اطاعت رسول، تقوائے الٰہی اور خشیت الٰہی کے جامع ہیں ﴿ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’کامیاب ہیں ۔‘‘ اسباب عذاب کو ترک کر کے، اس سے نجات حاصل کرکے، ثواب کے اسباب اختیار کر کے اور اس کی منزل تک پہنچ کر وہ کامیاب ہوئے۔ پس کامیابی انھی کے لیے مخصوص ہے۔ جو کوئی ان لوگوں کے اوصاف سے متصف نہیں تو وہ ان اوصاف حمیدہ میں کوتاہی کے مطابق اس فوزوفلاح سے محروم ہو گا۔یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) کے مشترک حق کے بیان پر مشتمل ہے۔ رسول کے حق سے مراد اطاعت رسول ہے جو ایمان کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص حق سے مراد تقویٰ اور خشیت الٰہی ہے اور تیسرا حق جو صرف رسولﷺکے ساتھ مختص ہے، وہ ہے آپ کی مدد و توقیر کرنا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان حقوق ثلاثہ کو‘‘ سورۃ الفتح‘‘ میں یوں جمع فرمایا ہے:﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾(الفتح:48؍9) ’’تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور توقیر کرو اور صبح و شام اس (اللہ تعالیٰ) کی تسبیح بیان کرو۔‘‘