کہہ دیجیے! کیا یہ (عذاب) بہتر ہے یا جنت ہمیشگی کی، وہ جس کا وعدہ دیے گئے متقی لوگ؟ ہے وہ ان کے لیے جزا اور واپسی کی جگہ (15) ان کے لیے اس میں ہوگا جو کچھ وہ چاہیں گے، ہمیشہ رہنے والے،ہے (یہ) آپ کے رب کے ذمے وعدہ قابل طلب (16)
[15] یعنی ان کی حماقت اور ان کے نفع کی بجائے نقصان کو اختیار کرنے کو بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے! ﴿ اَذٰلِكَ ﴾ یعنی وہ عذاب جو میں نے تمھارے لیے بیان کیا ہے﴿ خَيۡرٌ اَمۡ جَنَّةُ الۡخُلۡدِ الَّتِيۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’بہتر ہے یا وہ ہمیشگی والی جنت، جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا ہے؟‘‘ جن کو تقویٰ نے بڑھا دیا ہے، پس جو کوئی تقویٰ قائم کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔﴿كَانَتۡ لَهُمۡ جَزَآءً ﴾ ’’ہو گی وہ ان کے لیے بدلہ۔‘‘ یعنی متقین کے تقویٰ کی جزا کے طور پر ﴿ وَّمَصِيۡرًا ﴾ اور ان کا ٹھکانا ہو گی، جس کی طرف وہ لوٹیں گے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔
[16]﴿لَهُمۡ فِيۡهَا مَا يَشَآءُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں جس چیز کی طلب ہو گی اور جنت میں جس چیز کی خواہش اور آرزو ہو گی وہ انھیں حاصل ہو گی، مثلاً:لذیذ مطعومات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، خوبصورت بیویاں ، بلندوبالا محل، باغات، پھلوں سے لدے ہوئے باغیچے، میوے، جن کی خوبصورتی، ان کا تنوع اور ان کی کثرت اصناف دیکھنے والوں اور کھانے والوں کو خوش کر دے گی۔ جنت کی پھلواریوں اور باغات میں نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ جدھر چاہیں گے ان نہروں کو موڑ سکیں گے، وہ نہ بدلنے والے اس پانی کی نہروں کو جہاں چاہیں گے لے جا سکیں گے، کچھ دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوا ہو گا، پینے والوں کی لذت کی خاطر کچھ نہریں شراب کی ہوں گی، کچھ نہریں مصفیٰ شہد کی ہوں گے، جن میں خوشبوئیں پھیلی ہوئی ہوں گی، آراستہ اور مزین گھر ہوں گے، سحرانگیز اور دلکش آوازیں ہوں گی اور وہ بھائیوں کی زیارت اور دوستوں کی ملاقاتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔اور ان تمام نعمتوں سے اعلیٰ تر رب رحیم کے دیدار اور اس کے کلام کے سماع سے لطف اندوز ہونا، اس کے قرب اور رضا کی سعادت حاصل کرنا، اس کی ناراضی سے مامون ہونا ان نعمتوں کا دوام اور وقت گزرنے کے ساتھ ان تمام نعمتوں کا بڑھتے چلے جانا ہے۔﴿ كَانَ ﴾ ’’ہے (یہ)‘‘ جنت میں داخل ہونا اور جنت میں پہنچنا ﴿ عَلٰى رَبِّكَ وَعۡدًا مَّسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’آپ کے رب کے ذمے قابل درخواست وعدہ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اپنی زبان حال اور زبان قال سے، اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے۔ پس ان دونوں گھروں میں سے کون سا گھر اچھا ہے کہ اس کو ترجیح دی جائے؟ اے عقل مندو! ان دونوں قسم کے عمل کرنے والوں ، یعنی دار شقاوت کے اعمال رکھنے والوں اور دار سعادت کے اعمال رکھنے والوں میں سے کون سے لوگ فضیلت، عقل اور فخر کے مستحق ہیں ؟حق واضح اور راہ راست روشن ہو گئی ہے اب کسی افراط پسند کے پاس دلیل کو ترک کرنے کا کوئی عذر نہیں ۔ اے وہ ذات گرامی! جس نے کچھ لوگوں کے لیے شقاوت اور کچھ لوگوں کے لیے سعادت کا فیصلہ کیا ہے، ہم تیرے حضور اس بات کے امیدوار ہیں کہ تو ہمیں ان لوگوں میں شامل کر دے جن کے لیے تو نے بھلائی اور اپنے دیدار کا شرف لکھ دیا ہے اور اے اللہ! ہم بدبختوں کے احوال سے تیری مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔