Tafsir As-Saadi
25:7 - 25:14

اور کہا انھوں نے، کیا ہے اس رسول کو کہ وہ کھاتا ہے کھانا اور چلتا ہے بازاروں میں ؟ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ ہوتا وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا؟ (7)یا ڈالا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ یا ہوتا اس کے لیے کوئی باغ کہ وہ کھاتا اس میں سے اور کہا (ان)ظالموں نے (مومنوں سے)، نہیں اتباع کرتے تم مگر ایسے شخص کا (جس پر) جادو کیا گیا ہے (8) دیکھیے! کیسی بیان کیں ان لوگوں نے آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، پس نہیں استطاعت رکھتے وہ راہ (یابی) کی (9) بڑی ہی بابرکت ہے وہ (اللہ کی) ذات کہ اگر وہ چاہے تو بنادے آپ کے لیے بہت بہتر اس سے، ایسے باغات کہ بہتی ہوں ان کے نیچے نہریں ، اور وہ بنا دے آپ کے لیے محلات (10)بلکہ انھوں جھٹلایا قیامت کواور تیار کی ہے ہم نے، اس شخص کے لیے جو جھٹلائے قیامت کو، بھڑکتی آگ (11) جب وہ (آگ) دیکھے گی ان (مجرموں ) کو دور کے مکان سے تو سنیں گے وہ واسطے اس کے سخت غصیلی آواز اور چلانا (12)اورجب وہ ڈالے جائیں گے اس میں سے کسی تنگ جگہ میں ، زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہ پکاریں گے وہاں ہلاکت (موت) کو (13)(انھیں کہا جائے گا) نہ پکارو تم آج ایک ہلاکت (موت) کواور (بلکہ) پکارو تم بہت زیادہ ہلاکتوں (موتوں ) کو (14)

[7] یہ ان لوگوں کا قول ہے جنھوں نے رسول (ﷺ)کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدح کی۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ ﴾ یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے﴿ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ﴾ ’’کھانا کھاتا ہے‘‘ حالانکہ یہ تو بشر کی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔﴿ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ﴾ یعنی خریدوفروخت کے لیے ’’بازاروں میں چلتا پھرتا ہے‘‘ اور یہ … ان کے خیال کے مطابق … ایک رسول کے لائق نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان: 25؍20)’’ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ یعنی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو اس کا ہاتھ بٹاتا﴿ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾ ’’پس وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق آپ رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ آپ کو رسالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت اور قدرت حاصل ہے۔
[8]﴿ اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ ﴾ ’’یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔‘‘ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو﴿ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾ ’’یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔‘‘ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہو جاتا ﴿وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ظالموں نے کہا۔‘‘ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں بلکہ ان کا ظلم ہے: ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴾ ’’تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔‘‘ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل، آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔
[9] چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’دیکھو، وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور وہ یہ کہ وہ (رسول)فرشتہ کیوں نہ ہوا؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں ؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے؟﴿ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہو گئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آ سکتے۔‘‘ انھوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت، گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں ۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ سا شبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غوروفکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہو جاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں ؟
[10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔‘‘ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۙ وَيَجۡعَلۡ لَّكَ قُصُوۡرًا ﴾ ’’باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔‘‘ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
[11] چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انھوں نے تعنت، ظلم اورتکذیب حق کی وجہ سے كيے ہیں ، انھوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ كَذَّبُوۡا بِالسَّاعَةِ﴾ ’’بلکہ انھوں نے قیامت کی تکذیب کی۔‘‘ اور تکذیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا ،ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کر دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم نے قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔‘‘ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے، جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔
[12]﴿ اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’جب وہ (آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔‘‘ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے﴿ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا ﴾ ’’وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے‘‘ ﴿ وَّزَفِيۡرًا ﴾ ’’اور دھاڑنا (سنیں گے)۔‘‘ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہو گی، ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہو جائیں گے۔
[13]﴿ وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ ﴾ ’’اور جب انھیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ یعنی عذاب کے وقت، جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں ، بیڑیوں اور زنجیروں میں باندھ کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انھیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا ﴿ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾ تو اس وقت وہ اپنے لیے موت، رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انھیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔
[14] مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا: ﴿ لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا﴾ ’’آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں (ہلاکتوں ) کو پکارو!‘‘ یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو تو تمھیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ظالموں کی سزا بیان کرنے کے بعد یہ مناسب تھا کہ متقین کی جزا کا ذکر کیا جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: