یقینا مومن تو صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پراورجب ہوتے ہیں ساتھ اس (رسول) کے اوپر ایسے کام کے جو جمع کرنے والا (اجتماع کا متقاضی) ہے تو نہیں جاتے وہ یہاں تک کہ اجازت طلب کر لیں وہ آپ سے، بلاشبہ وہ لوگ جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، وہی لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر، پس جب وہ اجازت طلب کریں آپ سے اپنے کسی کام کے لیے تو اجازت دے دیں آپ جس کے لیے چاہیں ان میں سےاور مغفرت طلب کریں آپ ان کے لیے اللہ سے، بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (62)نہ بناؤ تم رسول کے بلانے کو اپنے درمیان مانند بلانے بعض تمھارے کے بعض کو تحقیق جانتا ہے اللہ ان لوگوں کو جو کھسک جاتے ہیں تم میں سے چھپ کر پس چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ، جو مخالفت کرتے ہیں اس (اللہ اور رسول) کے حکم کی، اس(بات) سے کہ پہنچے انھیں کوئی آزمائش (دنیا میں ) یا پہنچے انھیں عذاب درد ناک (آخرت میں )(63)آگاہ رہو! بلاشبہ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے تحقیق جانتا ہے اللہ اس (حالت) کو کہ ہو تم جس پراور جس دن وہ (منافق) لوٹائے جائیں گے اس کی طرف تو وہ خبر دے گا انھیں ساتھ اس کے جو انھوں نے عمل کیے تھےاور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (64)
[62] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے ارشاد ہے کہ جب وہ کسی جامع معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوں ، یعنی آپ کی ضرورت اور مصلحت ، مثلاً: جہاد اور مشاورت وغیرہ میں ، جہاں اہل ایمان کا اشتراک عمل ہوتا ہے… تو اس معاملے میں اکٹھے رہیں کیونکہ مصلحت ان کے اجتماع و اتحاد اور عدم تفرق و تشتت کا تقاضا کرتی ہے … اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان رکھنے والا رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد آپ کے نائب کی اجازت کے بغیر اپنے گھر لوٹتا ہے نہ اپنی کسی ضرورت سے دیگر مومنوں کو چھوڑ کر جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اجازت کے بغیر نہ جانے کو موجب ایمان قرار دیا ہے اور اس فعل پر نیز رسول اللہ ﷺاور آپ کے نائب کے ساتھ ان کے ادب پر ان کی مدح کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہی لوگ ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر۔‘‘ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا آپ اور آپ کا نائب ان کو اجازت دے یا نہ دے؟ اجازت دینے کے لیے دو شرائط عائد کی گئی ہیں :(۱)یہ اجازت طلبی ان کے کسی ضروری معاملے اور ضروری کام کے لیے ہو اور اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے اجازت طلب کرتا ہے تو اس کو اجازت نہ دی جائے۔(۲) اجازت دینے میں مشیت مصلحت کے تقاضے پر مبنی ہو اور اجازت دینے والے کو ضرر نہ پہنچے۔ اس لیے فرمایا: ﴿فَاِذَا اسۡتَاۡذَنُوۡكَ لِبَعۡضِ شَاۡنِهِمۡ فَاۡذَنۡ لِّمَنۡ شِئۡتَ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس جب وہ آپ سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لیے تو آپ ان میں سے جس کو چاہیں اجازت دیں ۔‘‘ اگر اجازت طلب کرنے والے کے پاس کوئی عذر ہو اور وہ اجازت طلب کرے اگر اس کے پیچھے بیٹھ رہنے میں اور ساتھ نہ جانے میں اس کی رائے یا شجاعت سے محرومی کی وجہ سے نقصان ہو تو صاحب امر اس کو اجازت نہ دے… بایں ہمہ اگر کسی نے پیچھے رہنے کی اجازت طلب کی اور صاحب امر ان مذکورہ شرائط کے ساتھ اجازت دے دے تو اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ وہ اجازت طلب کرنے والے کے لیے بخشش کی دعا کریں ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کی اجازت طلبی تقصیر پر مبنی ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور بخشش مانگیں ان کے لیے اللہ سے، بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخش دیتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے کہ اس نے کسی عذر کی بنا پر اجازت طلبی کا جواز عطا کیا۔
[63]﴿ لَا تَجۡعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَيۡنَكُمۡ كَدُعَآءِ بَعۡضِكُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’نہ کرو تم رسول کے بلانے کو آپس میں جیسے ایک تمھارا دوسرے کو بلاتا ہے۔‘‘ یعنی رسول اللہﷺ کا تمھیں بلانا اور تمھارا رسول اللہﷺ کو بلانا ایسے نہ ہو جیسے تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ پس جب رسول اللہ ﷺ تمھیں بلائیں تو ان کی آواز پر لبیک کہنا تم پر فرض ہے یہاں تک کہ اگر تم نماز کی حالت میں ہو تب بھی تم پر آپ کے بلانے پر جواب دینا فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے سوا امت میں کوئی ایسی ہستی نہیں جس کے قول کو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا واجب ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ معصوم ہیں اور ہم پر آپ کی اتباع واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِيۡبُوۡا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ ﴾(الانفال:8؍24) ’’اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو، جب رسول تمھیں اس چیز کی طرف بلائے جوتمھیں زندگی عطا کرتی ہے۔‘‘ اسی طرح تم رسول اللہ ﷺ کو اس طرح نہ بلاؤ جس طرح تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو، یعنی رسول اللہ ﷺ سے مخاطب ہوتے وقت (یامحمد) ’’اے محمد!‘‘ یا (یا محمد بن عبداللہ)’’اے محمد بن عبداللہ!‘‘ نہ کہو جیسا کہ تم ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہو… بلکہ آپ کو فضل و شرف حاصل ہے اور آپ دوسروں سے ممتاز ہیں اس لیے آپ سے مخاطب ہوتے وقت یہ کہا جائے ’’اے اللہ کے رسول!‘‘ یا ’’اے اللہ کے نبی!‘‘﴿ قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ يَتَسَلَّلُوۡنَ مِنۡكُمۡ لِوَاذًا﴾ ’’اللہ جانتا ہے ان لوگوں کو جو کھسک جاتے ہیں تم میں سے نظر بچا کر۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کی مدح بیان کی ہے کہ جب وہ کسی جامع معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ سے اجازت لیے بغیر واپس نہیں جاتے۔ بعدازاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وعید سنائی جنھوں نے ایسا نہیں کیا اور اجازت لیے بغیر چلے گئے۔ اگرچہ ان کا چپکے سے چلے جانا تم پر مخفی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے یہی مراد ہے:﴿ يَتَسَلَّلُوۡنَ مِنۡكُمۡ لِوَاذًا ﴾ یعنی کھسکتے اور آپ کے پاس سے جاتے وقت، لوگوں کی نظر سے چھپنے کے لیے کسی چیز کی آڑ لیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے وہ ان کو ان کے ان کرتوتوں کی پوری پوری جزا دے گا، اس لیے فرمایا:﴿ فَلۡيَحۡذَرِ الَّذِيۡنَ يُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِهٖۤ ﴾ ’’پس چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں آپ کے حکم کی۔‘‘ یعنی جو لوگ اپنے کسی ضروری کام کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے کام کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ تب اس شخص کا کیا حال ہو گا جو اپنے کسی ضروری کام اور مشغولیت کے بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرتا ہے۔ ﴿ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ فِتۡنَةٌ﴾ ’’یہ کہ پہنچے ان کو کوئی فتنہ‘‘ یعنی شرک اور شر﴿ اَوۡ يُصِيۡبَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’یا ان کو کوئی دردناک عذاب آ لے۔‘‘
[64]﴿ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آگاہ ہوجاؤ کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کے لیے ہے۔‘‘ وہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور اس کے بندے ہیں وہ ان میں اپنے حکم قدری اور حکم شرعی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔﴿ قَدۡ يَعۡلَمُ مَاۤ اَنۡتُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ تم جو بھلائی یا برائی کرتے ہو اللہ تعالیٰ کا علم اس کا احاطہ كيے ہوئے ہے، وہ تمھارے تمام اعمال کو جانتا ہے، اس کے علم نے اس کو محفوظ اور اس کے قلم نے اس کو لکھ رکھا ہے اور (کراماً کاتبین)فرشتوں نے اس کو درج کر لیا ہے۔﴿وَيَوۡمَ يُرۡجَعُوۡنَ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اور جس دن لوٹائے جاؤ گے تم اس کی طرف۔‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَيُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’پس وہ انھیں ان کے عملوں کی خبر دے گا۔‘‘ وہ ان کے تمام چھوٹے بڑے اعمال کے بارے میں ان کو اس طرح آگاہ کرے گا کہ یہ آگاہی واقع کے مطابق ہو گی۔ وہ ان کے اعضاء سے ان کے خلاف گواہی لے گا۔ وہ اس کے فضل وعدل سے محروم نہیں ہوں گے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے علم کو بندوں کے اعمال کے ساتھ مقید کیا ہے اس لیے خصوص کے بعد عموم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘