Tafsir As-Saadi
25:4 - 25:6

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جھوٹ ہی، گھڑا ہے اس( پیغمبر) نے اسے اور مدد کی ہے اس کی اس پر کچھ اور لوگوں نے پس تحقیق آئے ہیں وہ (لوگ) ظلم اورجھوٹ کو (4) اور کہا انھوں نے، یہ قصے کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی، لکھ لیا ہے اس نے ان کو، پس وہ پڑھی جاتی ہیں اس پر صبح اور شام(5) آپ کہہ دیجیے! نازل کیا ہے اس (قرآن) کو اس (اللہ) نے جو جانتا ہے بھید آسمانوں اور زمین کے، بے شک وہ ہے بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (6)

[4] یعنی اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے، جن کے قرآن اور رسول کے بارے میں قول باطل کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کفر واجب کیا… کہتے ہیں کہ یہ قرآن جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ)نے خود تصنیف کیا ہے، ایک بہتان ہے جسے محمد (ﷺ)نے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور ایسا کرنے میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کا انکار حق، ظلم اور باطل پر مبنی اقدام ہے جو کسی کی عقل میں نہیں آ سکتا، حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے احوال، آپ کے کامل صدق و امانت اور آپ کی کامل نیکی کی پوری پوری معرفت رکھتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اور دیگر تمام مخلوق کے لیے یہ قرآن تصنیف کرنا ممکن نہیں جو جلیل ترین اور بلند ترین درجے کا کلام ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اس قرآن کی تصنیف میں مدد حاصل کرنے کے لیے کسی کے پاس نہیں گئے … پس کفار نے ظلم اور جھوٹ پر مبنی بات کہی ہے۔
[5] ان کی ان باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ یہ قرآن، جسے محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ﴿اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ اكۡتَتَبَهَا ﴾ یعنی یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو لوگوں میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اورانھیں ہر شخص آگے بیان کر دیتا ہے محمد (ﷺ)نے بھی ان کہانیوں کو سن کر لکھ لیا ہے۔ ﴿فَهِيَ تُمۡلٰى عَلَيۡهِ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ﴾’’پس وہ صبح و شام اس پر پڑھی جاتی ہیں ۔‘‘ ان کی اس بات میں متعدد گناہ کی باتیں ہیں :(۱)ان کا رسولﷺپر جھوٹ اور عظیم جسارت کے ارتکاب کا بہتان لگانا، حالانکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سچے ہیں ۔(۲)قرآن کریم کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ جھوٹ اور افتراء ہے، حالانکہ یہ سب سے سچا، جلیل ترین اور عظیم ترین کلام ہے۔(۳)اس ضمن میں ان کا یہ دعویٰ کہ وہ ایسا کلام لانے کی قدرت رکھتے ہیں یعنی یہ مخلوق جو ہر پہلو سے ناقص ہے، خالق جو ہر لحاظ سے کامل ہے، کی ایک صفت یعنی صفت کلام میں اس کی برابری کر سکتی ہے؟(۴) رسولﷺکے احوال معلوم ہیں یہ آپ کے احوال کو سب سے زیادہ جانتے ہیں انھیں خوب معلوم ہے کہ آپ لکھ سکتے ہیں نہ آپ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جو آپ کو لکھ کر دے۔ اس کے باوجود وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ یہ قصے کہانیاں کسی کے پاس سے لکھ لاتے ہیں ۔
[6] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ اَنۡزَلَهُ الَّذِيۡ يَعۡلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اس قرآن عظیم کو اس ہستی نے نازل کیا ہے جس کے علم نے زمین و آسمان کی ہر چیز کا، خواہ وہ غائب ہو یا سامنے ہو، چھپی ہوئی ہو یا ظاہر ہو… احاطہ کر رکھا ہے۔ جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ رب العالمین کی طرف سے اتاری ہوئی چیز ہے۔ جسے لے کر روح الامین آپ کے دل پر اترا ہے تاکہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو ان کے انجام سے ڈرانے والے ہیں ۔‘‘ اس میں ان پر حجت قائم کرنے کا پہلو یہ ہے کہ وہ ہستی، جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور جس کا علم ہر چیز کا احاطہ كيے ہوئے ہے، اس کے بارے میں یہ محال اور ممتنع ہے کہ کوئی مخلوق یہ قرآن گھڑ کر اس کی طرف منسوب کر دے اور کہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرے اس کی جان و مال کو مباح قرار دے دے اور دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، بایں ہمہ وہ اس شخص کی اس کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کرتا ہے، ان کی جانوں اور شہروں کو اس کے حوالے کر دیتا ہے… پس اللہ تعالیٰ کے علم کا انکار كيے بغیر، کسی کے لیے اس قرآن کا انکار کرنا ممکن نہیں ۔ بنی آدم میں سے سوائے دہریے فلاسفہ کے، کوئی ایسی بات نہیں کہتا۔نیز اللہ تعالیٰ کا اپنے وسیع علم کا ذکر کرنا، ان کو قرآن میں تدبر کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے، اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ اس کے علم اور احکام میں کوئی ایسی چیز ضرور دیکھتے جو قطعی طور پر دلالت کرتی کہ یہ قرآن غائب اور حاضر، تمام امور کا علم رکھنے والی ہستی کے سوا، کسی کی طرف سے نہیں … ان کے توحید و رسالت کا، جو ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے… انکار کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کے حوالے کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ ان کو توبہ و انابت کی طرف بلایا اور ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ اگر وہ توبہ کریں گے تو وہ ان کو اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازے گا۔ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوۡرًا ﴾ ’’وہ بہت بخشنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس کا وصف یہ ہے کہ وہ مجرموں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، جب وہ مغفرت کے اسباب کام میں لاتے ہیں ، یعنی وہ گناہوں سے رجوع کر کے توبہ کرتے ہیں ۔﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ ان پر بہت رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی حالانکہ انھوں نے اس کے تقاضوں کو پورا کر دیا تھا۔ ان کی نافرمانیوں کے بعد اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کی برائیوں کے ارتکاب کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی برائیوں کو مٹا دیا، اس نے ان کی نیکیوں کو قبول فرمایا، اس نے اپنے سے دور بھاگنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والوں کو اور روگردانی کے بعد اپنی طرف متوجہ ہونے والوں کو اطاعت مندوں اور رجوع کرنے والوں کی حالت کی طرف لوٹا دیا۔