Tafsir As-Saadi
25:35 - 25:40

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا تھا ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مدد گار (35) پس کہا ہم نے ، جاؤ تم دونوں اس قوم کی طرف، جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس ہلاک کر دیا ہم نے انھیں (بالکل ہی) ہلاک کرنا (36)اور قوم نوح کو (بھی) جب جھٹلایا انھوں نے رسولوں کو، غرق کر دیا ہم نے ان کواور بنا دیا ہم نے انھیں لوگوں کے لیے (عبرت کا) نشان اور تیار کیا ہے ہم نے ظالموں کے لیے عذاب بہت درد ناک(37) اور (ہلاک کر دیا ہم نے) قوم عاد اورثموداور کنویں والوں کو اور (دیگر) قوموں کو درمیان ان کے بہت سی (38) اور ہر ایک، بیان کیں ہم نے اس کے لیے مثالیں اور سب کو ملیامیٹ کر دیا ہم نے تباہ و برباد کر کے (39)اور البتہ تحقیق وہ آئے (گزرے) ہیں اوپر اس بستی کے کہ جس پر برسائی گئی بارش بری کیا پس نہیں تھے وہ، کہ دیکھتے وہ اس (بستی) کو؟بلکہ تھے وہ نہیں امید رکھتے دوبارہ (جی) اٹھنے کی (40)

[40-35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں ۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، مثلاً: حجر کے علاقے میں صالح u کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا ہے۔ وہ قومیں ان سے کوئی زیادہ بری نہیں تھیں اور نہ ان کے رسول ان لوگوں کے رسول (ﷺ)سے بہتر تھے۔ ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے پہلی کتابوں میں براء ت نامہ تحریر کر دیا گیا ہے۔‘‘ جس چیز نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے، حالانکہ وہ نشانیوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں ، وہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی امید رکھتے ہیں نہ اس کی سزا سے ڈرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے عناد پر جمے ہوئے ہیں ورنہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں آئی ہیں جنھوں نے کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال وریب باقی نہیں رہنے دیا۔