اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان ساتھ بادلوں کے اور نازل کیے جائیں گے فرشتے (لگاتار) نازل کیے جانا (25) بادشاہی، اس دن حقیقی، رحمن ہی کے لیے ہو گی اور ہو گا وہ دن کافروں پر نہایت سخت (26)اور جس دن دانتوں سے کاٹے گا ظالم اپنے دونوں ہاتھ (اور)کہے گا، اے کاش! پکڑتا (اختیار کرتا) میں رسول کے ساتھ راستہ (27) ہائے میری کم بختی! کاش کہ میں نہ پکڑتا فلاں (شخص) کو دوست (28) البتہ تحقیق گمرہ کیا اس نے مجھے اس ذکر (قرآن) سے بعد اس کے کہ وہ آیا میرے پاس اور ہے شیطان، انسان کو بے یارو مدد گار چھوڑ دینے والا (29)
[26,25] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ﴾ ’’اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔‘‘ یہ وہ بادل ہو گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھڑے ہو جائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہو گی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے صف در صف موجود ہوں گے مقصد یہ ہے کہ فرشتے نہایت کثرت اور قوت کے ساتھ نازل ہوں گے۔ ان میں سے کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کر سکے گا۔ (اس روز جب یہ حال ہو گا) تو اس کمزور آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کام كيے اور توبہ كيے بغیر گناہوں کا بوجھ اٹھائے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جو بادشاہ اور خلاّقِ کائنات ہے، ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ذرہ بھر ظلم وجور نہ ہو گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ يَوۡمًا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ عَسِيۡرًا ﴾ یہ دن اپنی سختی اور صعوبت کی وجہ سے کفار کے لیے بہت کٹھن ہو گا اور ان کے تمام امور ان کے لیے بہت مشکل ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس مومن کا معاملہ آسان اور اس کا بوجھ بہت ہلکا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًاۙ۰۰ وَّنَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرۡدًا﴾(مریم:19؍85۔86)’’جس روز ہم اہل تقویٰ کو اکٹھا کر کے رحمان کے حضور مہمانوں کے طور پر پیش کریں گے اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کر لے جائیں گے۔‘‘﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’بادشاہی اس روز‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان ہی کے لیے صحیح طور پر ہو گی۔‘‘ یعنی مخلوقات میں سے کسی کے لیے کوئی اختیار یا اختیار و اقتدار کی کوئی صورت نہیں ہو گی جس طرح کہ وہ دنیا میں تھے۔ بلکہ بادشاہ اور ان کی رعایا، آزاد اور غلام، اشرف اور نیچ سب برابر ہوں گے اور جس چیز سے دل کو راحت اور نفس کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اقتدار کی اپنے اسم مبارک ﴿الرَّحۡمٰنِ ﴾ کی طرف اضافت کی ہے۔ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر زندہ کے لیے عام ہے، اس نے تمام کائنات کو لبریز کر رکھا ہے، دنیا و آخرت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے معمور ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہر ناقص کامل ہو جاتا ہے اور اس کی رحمت سے ہر نقص زائل ہو جاتا ہے۔ اس کی رحمت پر دلالت کرنے والے اسمائے حسنیٰ ان اسمائے حسنیٰ پر غالب ہیں جو اس کے غضب پر دلالت کرتے ہیں ۔ اس کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت حاصل ہے، اس کی رحمت غضب پر غالب ہے۔پس اس کے لیے سبقت اور غلبہ ہے۔یہ کمزور آدمی اس لیے پیدا کیا گیا ہے اور اسے عزت و تکریم اس لیے عطا کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسے اپنی نعمت سے ڈھانپ لے۔ لوگ تذلل، خضوع اور انکسار کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر انتظار کریں گے کہ وہ کیا حکم جاری کرتا ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جتنا وہ خود اپنے آپ پر رحم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے والدین سے بھی زیادہ رحیم ہے۔ پس آپ کا کیا خیال ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ کیسا معاملہ کرے گا؟اور اللہ تعالیٰ صرف اسی کو ہلاک کرے گا جو خود ہلاک ہونا چاہتا ہے، اس کی رحمت کے دائرے سے صرف وہی خارج ہو گا جس پر بدبختی غالب آ گئی ہو اور جس پر عذاب واجب ٹھہر گیا ہو۔
[27]﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ ﴾ ’’اور جس دن کاٹے گا ظالم‘‘ اپنے شرک، کفر اور انبیاء ورسل کی تکذیب کی بنا پر ﴿ عَلٰى يَدَيۡهِ﴾ ’’اپنے ہاتھوں کو۔‘‘ تاسف، حسرت اور حزن و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ ﴿ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾ ’’وہ کہے گا، ہائے افسوس! میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ۔‘‘ یعنی رسول (ﷺ)پر ایمان، آپ کی تصدیق اور آپ کی اتباع کا راستہ۔
[28]﴿ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا ﴾ ’’ہائے افسوس، کاش نہ پکڑا ہوتا میں نے فلاں کو‘‘ یعنی شیاطین انس و جن کو ﴿ خَلِيۡلًا ﴾ یعنی اپنا جگری دوست اور مخلص ساتھی۔ میں نے ان ہستیوں سے عداوت رکھی جو میرے سب سے زیادہ خیرخواہ، میرے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے اور مجھ پر سب سے زیادہ مہربان تھے اور اس کو دوست بنایا جو درحقیقت میرا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اس کی دوستی نے بدبختی، خسارے، رسوائی اور ہلاکت کے سوا کوئی فائدہ نہ دیا۔
[29]﴿ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ﴾ ’’بلاشبہ میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد اس نے مجھے اس سے بھٹکا دیا۔‘‘ کیونکہ اس نے دھوکے اور فریب سے اس کی گمراہی کو اس کے سامنے مزین کر دیا۔ ﴿ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾ ’’اور ہے شیطان، انسان کو دغا دینے والا۔‘‘ یعنی شیطان انسان کے سامنے باطل کو آراستہ کرتا ہے اور حق کو بری صورت میں پیش کرتا ہے، اسے بڑی بڑی آرزوئیں دلاتا ہے بعدازاں اس سے علیحدہ ہو کر اس سے براء ت کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ قیامت کے روز۔ جب تمام معاملات چکا دیے جائیں گے اور اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کے حساب کتاب سے فارغ ہو گا تو شیطان اس روز اپنے پیروں کاروں سے کہے گا:﴿ وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠١ؕ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ١ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِيَّ١ؕ اِنِّيۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمُوۡنِ۠ مِنۡ قَبۡلُ﴾(ابراہیم:14؍22) ’’اور جب تمام معاملات کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا، بے شک اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا اور میں نے تمھارے ساتھ جتنے وعدے كيے تھے ان میں کوئی وعدہ پورا نہ کیا، میرا تم پر کوئی اختیار نہ تھا۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ میں نے تمھیں اپنے راستے کی طرف بلایا اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ پس اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ اب میں تمھاری فریاد رسی کر سکتا ہوں نہ تم میری کر سکتے ہو، اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا میں اس سے بھی براء ت کا اعلان کرتا ہوں ۔‘‘پس بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ پر غور کرے اور اس وقت سے پہلے کہ گناہوں کا تدارک ممکن نہ رہے بندے کو چاہیے کہ اپنے گناہوں کا تدارک کرلے۔ اور اس ہستی کو اپنا دوست بنائے جس کی دوستی میں سعادت ہے اور اسے اپنا دشمن سمجھے جس کو دشمن سمجھنے میں فائدہ اور اس کے دوست بنانے میں سراسر نقصان ہے۔ واللہ الموفق۔