کیا نہیں دیکھا آپ نے اپنے رب (کی قدرت) کی طرف کہ کیسے پھیلا دیا اس نے سائے کو؟ اور اگر وہ چاہتا تو البتہ بنا دیتا اسے ساکن، پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر راہنما (45) پھر سمیٹ لیا ہم نے اسے اپنی طرف سمیٹنا تھوڑا تھوڑا(46)
[46,45] کیا تم نے اپنی آنکھ اور اپنی بصیرت سے اپنے رب کی قدرت کاملہ اور بے پایاں رحمت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ بندوں پر سائے کو پھیلا دیتا ہے اور یہ طلوع آفتاب سے قبل ہوتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَيۡهِ دَلِيۡلًا﴾ ’’پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر‘‘ یعنی سائے پر ﴿ دَلِيۡلًا ﴾ ’’دلیل‘‘ اگر سورج نہ ہوتا تو سایہ نہ پہچانا جاتا کیونکہ تمام اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ قَبَضۡنٰهُ اِلَيۡنَا قَبۡضًا يَّسِيۡرًا ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا۔‘‘ پس جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے تو سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ختم ہو جاتا ہے۔ مخلوق پر سائے اور دھوپ کا یکے بعد دیگرے واقع ہونا جس کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، اسی سے لیل و نہار ترتیب پاتے ہیں اور ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہیں پھر مختلف موسم ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں اور اس سبب سے مخلوق کے بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں … یہ تمام امور اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ قدرت و عظمت کا مالک ہے وہ اپنے بندوں سے کمال رحمت و عنایت سے پیش آتا ہے۔ وہ اکیلا ہی معبود محمود، محبت اور تعظیم کا مستحق اور ذوالجلال والاکرام ہے۔