Tafsir As-Saadi
26:69 - 26:104

اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)

[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘