Tafsir As-Saadi
25:61 - 25:62

بابرکت ہے وہ ذات جس نے بنائے آسمان میں برج اور اس نے بنایا اس میں چراغ (سورج) اور چاند روشن (61)اور وہی ہے، (اللہ) جس نے بنایا رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا واسطے اس شخص کے جو چاہے یہ کہ نصیحت حاصل کرے وہ یا چاہے وہ شکر کرنا (62)

[61] چنانچہ فرمایا: ﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ جَعَلَ فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں برج بنائے۔‘‘ یہ عام ستارے ہیں یا سورج اور چاند کی منازل ہیں جہاں وہ منزل بمنزل چلتے رہتے ہیں اور وہ منازل ایسی ہیں جیسے شہروں کی حفاظت کے لیے برج اور قلعے ہوتے ہیں ۔ اس طرح ستارے ان برجوں کی مانند ہوتے ہیں جو حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں … کیونکہ یہ ستارے شیاطین کے لیے شہاب ثاقب ہیں ۔ ﴿ وَّجَعَلَ فِيۡهَا سِرٰجًا﴾ ’’اور اس میں (آفتاب کو) چراغ بنایا۔‘‘ یعنی جس میں روشنی اور حرارت ہو اس سے مراد سورج ہے ﴿ وَّقَمَرًا مُّنِيۡرًا ﴾ ’’اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا۔‘‘ جس میں روشنی ہو مگر حرارت نہ ہو (وہ چاند ہے) یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت اور اس کے بے شمار احسانات کی دلیل ہے چونکہ اس میں نمایاں تخلیق، انتہائی منظم تدبیر اور عظیم جمال ہے اس لیے یہ اپنے خالق کے تمام اوصاف میں اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے اور چونکہ ان میں مخلوق کے لیے مصالح اور منافع ہیں اس لیے یہ اس کی بھلائیوں کی کثرت پر دلالت کرتی ہے۔
[62]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ خِلۡفَةً ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔‘‘ یعنی دن رات میں سے ایک جاتا ہے تو دوسرا اس کا پیچھا کرتا ہے یہ سلسلہ یونہی ہمیشہ چلتا رہے گا وہ کبھی اکٹھے ہوں گے نہ کبھی مرتفع ہوں گے۔ ﴿ لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّذَّكَّـرَ اَوۡ اَرَادَ شُكُوۡرًا﴾ ’’اس شخص کے لیے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے۔‘‘ یہ شب و روز اس شخص کے لیے نصیحت ہیں جو ان سے نصیحت حاصل کرنا، عبرت پکڑنا، ان کے ذریعے سے بہت سے مطالب الٰہیہ پر استدلال کرنا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کاشکر کرنا چاہتا ہے تو دن یا رات میں اس کے لیے ورد ہے۔ اگر کسی ایک وقت اس سے اس کا ورد فوت ہو جائے تو وہ دوسرے وقت میں اس کی تلافی کر سکتا ہے۔ نیز دل بھی شب و روز کی مختلف گھڑیوں میں ، اپنی کیفیات کے اعتبار سے تبدیلیوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں انھیں نشاط اور کسل مندی، ذکر اور غفلت، قبض اور بسط، اقبال اور اعراض کی کیفیات پیش آتی رہتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے شب و روز کو اس طرح تخلیق فرمایا ہے کہ وہ تسلسل سے باری باری وارد ہوتے رہتے ہیں تاکہ اگر ایک وقت فوت ہو جائے تو دوسرے وقت میں نشاط، ذکر اور شکر کی کیفیت حاصل ہو جائے نیز شب و روز کے تکرار میں عبادات کے اوقات کا تکرار ہے۔ جب بھی عبادات کا وقت دوبارہ آئے گا تو بندے میں ایک نیا ارادہ پیدا ہو گا جو گزشتہ وقت میں اس کی کسل مندی کا شکار ہو گیا تھا۔ اس طرح اس کے ذکر و شکر میں اضافہ ہو گا نیکیوں کا وظیفہ شجرۂ ایمان کے لیے آب پاشی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ایمان بڑھتا چلا جاتا ہے اگر یہ نہ ہو تو ایمان کا پودا مرجھا کر سوکھ جاتا ہے۔
اس پر اللہ تعالیٰ کی خوبصورت پیرائے میں کامل ترین حمد ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بے شمار بھلائیوں اور احسانات کا ذکر کیا ہے جن سے اس نے اپنے نیک بندوں کو نوازا اور انھیں نیک اعمال کی توفیق سے سرفراز کیا جو انھیں جنت میں بلند ترین مقامات پر فائز کریں گے، چنانچہ فرمایا :