اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔