جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔