اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘