Tafsir As-Saadi
26:213 - 26:216

پس نہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے معبود کو اور، پس ہو جائیں گے آپ (بھی) ان لوگوں میں سے جو عذاب دیے گئے (213) اور ڈرائیں آپ اپنے قبیلے سے قریبی لوگوں کو (214) اور جھکا دیجیے اپنا بازو واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے پیروی کی آپ کی مومنوں میں سے (215) پس اگر وہ نافرمانی کریں آپ کی تو کہہ دیجیے، بلاشبہ میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو (216)

[213] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو اصلاً اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے، اس لیے کہ غیر اللہ کو پکارنا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72) ’’جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔‘‘ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لیے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اسی کے لیے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید صرف، اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔
[214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے:(أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
[215]﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے‘‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔‘‘ رسول مصطفی ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں ۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے ، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔
[216] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ عَصَوۡكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں ، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں ، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں ۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں ۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں ، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔