Tafsir As-Saadi
27:15 - 27:44

اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)

[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔