اور (یاد کریں ) لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا آتے ہو تم بے حیائی (بدفعلی) کو اس حال میں کہ تم دیکھتے ہو (54) کیا بے شک تم البتہ آتے ہو مردوں کے پاس جنسی خواہش کی تسکین کے لیے چھوڑ کر (اپنی) عورتوں کوبلکہ تم لوگ جہالت کا ارتکاب کرتے ہو (55) پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ انھوں نے کہا، نکال دو تم لوط کے ماننے والوں کو اپنی بستی سے، بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف بنتے ہیں (56) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سوائے اس کی بیوی کے، فیصلہ کیا تھا ہم نے اس کے بابت (کہ ہو گی وہ) پیچھے رہنے والوں میں سے (57) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش پس بری تھی بارش ڈرائے گئے لوگوں کی (58)
[54] ہمارے بندے اور رسول لوط (u) کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے۔ جب انھوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیرخواہی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ﴾ ’’کیا تم بے حیائی کرتے ہو؟‘‘ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور تم دیکھتے ہو‘‘ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو۔ تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا۔
[55]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَىِٕنَّكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ﴾ ’’کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے لیے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔‘‘ یعنی تم اس حالت کو کیسے پہنچ گئے کہ تمھاری شہوت مردوں اور ان کی پیٹھوں ، جو کہ غلاظت و خباثت کا مقام ہیں ، کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور اللہ نے تمھارے لیے جو عورتیں اور ان کی پاکیزہ چیزیں پیدا کیں ، تم نے ان کو چھوڑ دیا جن کی طرف میلان نفوس کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ تمھارا معاملہ بالکل الٹ ہو گیا تم نے برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنا دیا ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ تم جاہل لوگ ہو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے اور اس کے محارم کو توڑنے کی جسارت کرنے والے ہو۔
[56]﴿ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’آپ کی قوم کا جواب صرف یہ تھا۔‘‘ ان کا جواب قبولیت پر مبنی تھا نہ وہ گناہوں سے باز آئے اور نہ انھوں نے کوئی نصیحت ہی پکڑی۔ اس کے برعکس ان کا جواب تو عناد، مخالفت، اپنے نبی اور اپنے امانت دار رسول کو اس کے وطن اور شہر سے جلاوطن کرنے کی دھمکی پر مبنی تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡۤا اٰلَ لُوۡطٍ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا کہ لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو۔‘‘ گویا ان سے پوچھا گیا کہ تم لوطu کے گھرانے سے کیوں ناراض ہو ان کا وہ کون سا گناہ ہے جو ان کو بستی سے نکالنے کا موجب ہے۔ تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ مردوں کے ساتھ بدفعلی سے بچتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … انھوں نے بہترین نیکی کو بدترین برائی بنا دیا۔ انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ ان کے نبی نے ان کو جو نصیحت کی انھوں نے اس کی نافرمانی کی بلکہ وہ اس حد تک پہنچ گئے کہ اسے اپنی بستی سے نکالنے کا ارادہ کر لیا، مصیبت کا دارومدار زبان پر ہوتا ہے، اس لیے کہنے لگے ﴿اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍82) ’’انھیں اپنی بستی سے نکال باہر کرو وہ بڑے پاکباز لوگ بنتے ہیں ‘‘ اور اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ تم خباثت اور گندگی میں لتھڑے ہوئے ہو۔ جو تمھاری بستی پر نزول عذاب اور جو اس بستی سے نکل جائے اس کی نجات کا تقاضا کرتی ہے۔
[58,57]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ٞ قَدَّرۡنٰهَا مِنَ الۡغٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی۔‘‘ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مہمانوں کی شکل میں فرشتے لوطu کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی قوم کو ان (خوبصورت) مہمانوں کی آمد کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ برائی کے ارادے سے لوطu کے پاس آئے۔ لوطu نے دروازہ بند کر لیا اور ان پر معاملہ بہت شدت اختیار کر گیا، پھر فرشتوں نے لوطu کو صورت حال سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ انھیں ان سے بچانے اور ان بدکاروں کو ہلاک کرنے آئے ہیں اور ان کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے لوطu سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کی بیوی پر بھی وہی عذاب نازل ہونے والا ہے جو بستی والوں پر نازل ہو گا۔ لوطu اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات بستی سے نکل گئے اور بچ گئے اور صبح ہوتے ہی یک دم عذاب نے بستی کو آ لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور اوندھا کر کے اوپر کے حصے کو نیچے کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر تابڑ توڑ کھنگر کے پتھر برسائے جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا:﴿وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پس (جو) مینہ ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر برسایا گیا وہ بہت برا تھا۔‘‘ یعنی بہت بری تھی وہ بارش جو ان پر برسائی گئی اور بہت برا تھا وہ عذاب جو ان پر نازل کیا گیا۔ ان کو ڈرایا گیا اور خوف دلایا گیا مگر وہ بدکاری سے رکے نہ باز آئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر انتہائی سخت عذاب نازل کر دیا۔