Tafsir As-Saadi
27:45 - 27:53

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)

[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔