اور جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو گھبرا جائے گا جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں سوائے اس کے جسے چاہے اللہ اور سب (لوگ) آئیں گے اللہ کے پاس ذلیل ہو کر (87) اور آپ دیکھیں گے پہاڑوں کو تو گمان کریں گے آپ ان کو جمے ہوئے جبکہ وہ چل رہے ہوں گے مانند چلنے بادلوں کے (یہ) کاری گری ہے اللہ کی جس نے پختہ کیا ہرچیز کو، بلاشبہ وہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو (88) جو شخص لائے گا نیکی تو اس کے لیے بہت بہتر (بدلہ) ہو گا اس سےاور اور وہ لوگ گھبراہٹ سے ا س دن بے خوف ہوں گے (89) اور جو شخص لائے گا برائی تو اوندھے کر دے جائیں گے ان کے منہ آگ میں (اورکہا جائے گا) نہیں سزا دیے جاؤ گے تم مگر (اس کی) جو کچھ تھے تم عمل کرتے (90)
[87] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انھیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انھیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلا دینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَفَزِعَ ﴾ ’’اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔‘‘ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ ﴿ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے گی اور وہ خوف کی وجہ سے جو انھیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ﴾ سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کر ثابت قدمی عطا کرے گا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ ﴿ وَكُلٌّ ﴾ یعنی صور پھونکے جانے کے وقت تمام مخلوق ﴿ اَتَوۡهُ دٰخِرِيۡنَ﴾ ذلیل اور مطیع ہو کر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93) ’’زمین اور آسمان کے اندر جو بھی مخلوق ہے وہ سب رحمن کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘ اور اس روز مالک الملک کے حضور تذلل اور عاجزی میں رؤساء اور عوام سب برابر ہوں گے۔
[88] قیامت کے روز کی ہولناکی کی وجہ سے ﴿تَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً ﴾ ’’آپ پہاڑوں کو دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ جامد ہیں ۔‘‘ یعنی آپ ان میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے اور آپ سمجھیں گے کہ یہ تمام پہاڑ اپنے اپنے احوال میں باقی ہیں حالانکہ یہ شدت اور ہولناکی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ٹوٹ پھوٹ کر اور غبار بن کر اڑ جائیں گے اس لیے فرمایا: ﴿ وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ﴾ ’’اور وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ اپنی خفت اور شدت خوف کے باعث۔ ﴿ صُنۡعَ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بے شک وہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[89] پھر اللہ تعالیٰ نے اس جزا کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو تمام قسم کی قولی، فعلی اور قلبی نیکیوں کو شامل ہے ﴿ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّؔنۡهَا﴾ ’’تو اس کے لیے اس سے بہتر ہے۔‘‘ یہ کمترین تفصیل ہے۔(مصنف a نے اس مقام پر سبقت قلم سے سورۃ الانعام کی آیت ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا﴾ کی تفسیر کردی ہے) ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ يَّوۡمَىِٕذٍ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور سے مامون اور مصؤن ہوں گے جن سے مخلوق گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہو گی اگرچہ وہ بھی ان کے ساتھ گھبرا رہے ہوں گے۔
[90]﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ ﴾ ’’اور جو برائی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو ہر قسم کی برائی کو شامل ہے ﴿ فَكُبَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ﴾ یعنی انھیں چہروں کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ﴿ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘