Tafsir As-Saadi
28:1 - 28:51

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51)

[2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔
[3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔
[4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔
[5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔
[6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔
[7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔
[8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔
[9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔
[10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔
[11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔
[12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔
[13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔
[17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔
[19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔
[20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔
[21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔
[22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔
[23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔
[24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔
[25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔
[26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔
[27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔
[29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔
[30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘
[31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے
[32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔
[34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔
[36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘
[37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔
[38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔
[39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔
[40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔
[41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔
[42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔
[43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘
[44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔
[45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔
[46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘
[47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔
[48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔
[49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔
[50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟
قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.