Tafsir As-Saadi
28:57 - 28:59

اور وہ کہتے ہیں ، اگر ہم نے پیروی کی ہدایت کی تیرے ساتھ تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی زمین سے (اللہ نے فرمایا) کیا نہیں جگہ دی ہم نے انھیں حرم میں جو امن والا ہے؟ لائے جاتے ہیں (ہر جانب سے) اس کی طرف پھل ہرچیز (قسم) کے بطور رزق کے ہماری طرف سے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (57) اورکتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے بستیاں جو اتراتی تھیں اپنی (عمدہ) گزران پر، پس یہ (اجڑپڑے) ہیں ان کے گھر، نہیں آباد کیے گئے ان کے بعد مگر تھوڑے ہی اور تھے ہم ہی وارث (58)اور نہیں ہے آپ کارب ہلاک کرنے والا بستیوں کو یہاں تک کہ وہ بھیجتا ہے ان میں سے بڑی بستی میں کوئی رسول، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر ہماری آیتیں اور نہیں ہم ہلاک کرنے والے بستیوں کو مگر جبکہ ہوں ان کے باشندے ظالم (59)

[57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قریش میں سے اہل تکذیب اور دیگر اہل مکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿ اِنۡ نَّتَّبِـعِ الۡهُدٰؔى مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ اَرۡضِنَا﴾ ’’اگر ہم تمھارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنے ملک سے اچک لیے جائیں ۔‘‘ یعنی ہمیں قتل کر کے، قیدی بنا کر اور ہمارا مال و متاع لوٹ کر زمین سے اچک لیاجائے گا کیونکہ لوگ آپ سے عداوت رکھتے ہیں اور آپ کی مخالفت کرتے ہیں لہذا اگر ہم نے آپ کی اتباع کی تو ہمیں تمام لوگوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم لوگوں کی دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ ان کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوء ظن پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا بلکہ اس کے برعکس وہ لوگوں کو اپنے دین کے حاملین پر غالب کرے گا جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کریں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ باطل حق پر غالب آ جائے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت بیان کرتے اور لوگوں کی بجائے ان کے اختصاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ نُمَؔكِّنۡ لَّهُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجۡبٰۤى اِلَيۡهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيۡءٍ رِّزۡقًا مِّنۡ لَّدُنَّا﴾ ’’کیا ہم نے پر امن حرم کو ان کا جائے قیام نہیں بنایا جہاں ہماری طرف سے رزق کے طورپر ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں ؟‘‘ یعنی کیا ہم نے انھیں حرم میں اصحاب اختیار نہیں بنایا جہاں نہایت کثرت سے لوگ پے در پے آتے ہیں اور زائرین اس کی زیارت کا قصد کرتے ہیں ۔ قریب والے اور بعید والے سب لوگ اس کا احترام کرتے ہیں ۔ حرم کے رہنے والوں کو خوف زدہ نہیں کیا جاتا اور لوگ انھیں کم یا زیادہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ حالانکہ ان کے اردگرد ہر جگہ خوف میں گھری ہوئی ہے اور وہاں کے رہنے والے محفوظ ہیں نہ مامون۔ اس لیے انھیں اپنے رب کی حمدوثنا بیان کرنی چاہیے کہ اس نے انھیں کامل امن سے نوازا جو دوسروں کو میسر نہیں ، انھیں اس رزق کثیر پر اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جو ہر طرف سے پھلوں ، کھانوں اور دیگر سازوسامان کی صورت میں ان کے پاس پہنچاتا ہے جس سے یہ متمتع ہوتے ہیں اور انھیں فراخی اور کشادگی حاصل ہوتی ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اس رسول کریمﷺکی اتباع کریں تاکہ انھیں امن تام اور فراخی سے نوازا جائے۔وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اترانے سے بچیں ورنہ ان کا امن خوف سے، ان کی عزت ذلت سے اور ان کی دولت مندی فقر سے بدل جائے گی۔
[58] اس لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کو ان کی بداعمالیوں کی جو سزا دی ہے ان کو بھی اس سزا سے ڈرایا ہے چنانچہ فرمایا: ﴿وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍۭ بَطِرَتۡ مَعِيۡشَتَهَا﴾ ’’اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے تباہ و برباد کردیا جو اپنی معیشت پر اترایا کرتی تھیں ‘‘ یعنی یہ بستیاں اپنی معیشت پر فخر کرتی تھیں اور غفلت میں مبتلا تھیں اور ان کے رہائشی اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے اپنی خوشحالی میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا، ان سے نعمت چھین لی اور ان پر عذاب نازل کیا ﴿فَتِلۡكَ مَسٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَنۡ مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی ان پر لگاتار ہلاکت نازل ہونے، ان کے جان و مال کے تلف ہونے اور ان کے بعد ان کی بستیوں کے اجڑ جانے کے بعد وہ کبھی آباد نہ ہوئیں ۔ ﴿وَؔكُنَّا نَحۡنُ الۡوٰرِثِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔‘‘ یعنی ہم بندوں کے وارث ہیں ، ہم انھیں موت دیں گے اور وہ تمام نعمتیں ہماری طرف لوٹ آئیں گی جو ہم نے ان کو عطا کی تھیں پھر ہم ان کو واپس اپنی طرف لوٹائیں گے اور ان کو ان کے اعمال کی جزاوسزا دیں گے۔
[59] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے کہ وہ قوموں پر ان کے مجرد کفر کی بنا پر، ان پر حجت قائم کرنے اور ان کی طرف رسول مبعوث کرنے سے قبل، عذاب نازل نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ الۡقُرٰى ﴾ ’’اور تمھارا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔‘‘ یعنی ان کے کفر اور ظلم کی بنا پر ﴿ حَتّٰى يَبۡعَثَ فِيۡۤ اُمِّهَا ﴾ ’’جب تک ان کے بڑے شہر میں نہ بھیج لے۔‘‘ یعنی اس بستی اور شہر میں ، جہاں سے وہ گزرتے ہیں ، جہاں وہ آتے جاتے رہتے ہیں ، ان بستیوں کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں اور ان سے ان کی خبریں اور واقعات مخفی نہیں رہتے ہیں ۔ ﴿ رَسُوۡلًا يَّتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾’’رسول جو ان پر ہماری آیتیں پڑھتا۔‘‘ جو اس وحی کی صحت پر دلالت کرتیں جسے رسول لے کر آیا اور اس کی دعوت کی تصدیق کرتی تھیں اور اللہ کا رسول ان کے قریب اور دور سب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا تھا۔ اس کے برعکس دور دراز بستیوں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں ، رسولوں کا مبعوث ہونا ان پر مخفی رہ سکتا ہے۔ مگر بڑے بڑے شہروں میں ان اخبار و واقعات کا شائع ہونا زیادہ یقینی ہے اور غالب حالات میں شہروں کے باشندوں میں دوسروں کی نسبت جفا کم ہوتی ہے۔﴿ وَمَا كُنَّا مُهۡلِـكِي الۡقُرٰۤى اِلَّا وَاَهۡلُهَا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اسی وقت جبکہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں ۔‘‘ یعنی انھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا اور سزا کے مستحق ٹھہرے۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے ظلم کی بنا پر اور اس پر حجت قائم کرنے کے بعد ہی عذاب دیتا ہے۔