Tafsir As-Saadi
28:62 - 28:66

اور جس دن ندا دے گا انھیں (اللہ)، پھر وہ کہے گا (ان سے)، کہاں ہیں میرے شریک وہ جن کو تھے تم (شریک) گمان کرتے؟ (62)کہیں گے وہ لوگ کہ ثابت ہو چکا ان پر قول (عذاب) کا ، اے ہمارے رب! یہی ہیں وہ لوگ جنھیں گمراہ کیا تھا ہم نے، ہم نے گمراہ کیا تھا انھیں جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے ہم بیزاری ظاہر کرتے ہیں تیرے سامنے (ان سے) نہیں تھے وہ خاص ہماری ہی عبادت کرتے (63) اور کہا جائے گا، بلاؤ تم اپنے شریکوں کو پس وہ پکاریں گے ان کوتو وہ نہیں جواب دیں گے انھیں اور وہ (سب) دیکھ لیں گے عذاب کاش کہ! بے شک ہوتے وہ ہدایت پر چلتے (64) اور (یاد کرو!) جس دن پکارے گا ان کا (اللہ)، پھر وہ کہے گا، کیا جواب دیا تھا تم نے رسولوں کو؟ (65) پس اندھی ہو جائیں گی ان پر خبریں اس دن! پس وہ نہیں کریں گے ایک دوسرے سے سوال بھی (66)

[63,62] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز خلائق سے چند سوال کرے گا:1 اصولی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔2 اللہ تعالیٰ ان سے اپنی عبادت کے بارے میں سوال کرے گا۔3 اور انھوں نے اس کے رسولوں کو کیا جواب دیا اس بارے میں سوال کرے گا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو پکار کر کہے گا جنھوں نے اس کے شریک بنائے، وہ ان کی عبادت کرتے رہے، جلب منفعت اور دفع ضرر میں ان پر امیدیں رکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کے سامنے انھیں اس لیے پکار کر کہے گا تاکہ ان کے سامنے ان کے معبودوں کی بے بسی اور خود ان کی گمراہی ظاہر ہو جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ ﴾ ’’پس وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ ندا ان کے زعم اور ان کی بہتان طرازی پر طنز کے طور پر ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’جن کا تمھیں دعویٰ تھا۔‘‘ تمھارے مزعومہ معبود اپنی ذات کے ساتھ کہاں ہیں اور کہاں ہے ان کی نفع دینے اور نقصان دینے کی طاقت؟اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات اچھی طرح عیاں ہو جائے گی کہ جن خودساختہ معبودوں کی وہ عبادت کرتے رہے ہیں جن پر ان کو بہت امیدیں اور توقعات تھیں ، سب باطل اور کمزور تھے اور وہ امیدیں بھی بے ثمر تھیں جو انھوں نے ان معبودوں سے وابستہ کر رکھی تھیں وہ اپنے بارے میں ضلالت اور بے راہ روی کا اعتراف کریں گے۔ بنابریں ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’وہ لوگ جن پر عذاب کی بات واجب ہوجائے گی کہیں گے‘‘ کفروشر میں ان کی قیادت کرنے والے سردار اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اے ہمارے رب یہی‘‘ وہ پیروکار ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اَغۡوَيۡنَا١ۚ اَغۡوَيۡنٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَا﴾ ’’جن کو ہم نے بدراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح بدراہ کیا جس طرح ہم خود بدراہ ہوئے۔‘‘ یعنی گمراہی اور بدراہی میں ہم میں سے ہر ایک شریک ہے اور اس پر عذاب واجب ہو گیا۔ وہ کہیں گے:﴿ تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ یعنی ہم ان کی عبادت سے بری الذمہ ہیں ہم ان سے اور ان کے عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ﴿ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔‘‘ یہ لوگ تو شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَقِيۡلَ ﴾ ’’کہا جائے گا‘‘ ان سے ﴿ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ﴾ ’’اپنے ان معبودوں کو بلالو‘‘ جن سے تمھیں کوئی نفع پہنچنے کی امید تھی چنانچہ مصیبت کی ایسی گھڑی میں ان کو اپنے مزعومہ معبودوں کو بلانے کا حکم دیا جائے گا جس میں عابد اپنے معبود کا پکارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ﴿ فَدَعَوۡهُمۡ ﴾ ’’پس وہ ان کو پکاریں گے‘‘ تاکہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچائیں یا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں ﴿ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾ ’’مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے‘‘ تب کفار کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے اور سزا کے مستحق ہیں ۔ ﴿ وَرَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور وہ اس عذاب کو دیکھیں گے‘‘ جو ان کے آنکھوں دیکھتے نازل ہو گا جس کو وہ جھٹلایا اور اس کا انکار کیا کرتے تھے۔ ﴿ لَوۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’کاش وہ ہدایت یاب ہوتے۔‘‘ تو ان کو اس عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور انھیں جنت کے راستے کی طرف راہنمائی حاصل ہوتی، جیسے انھیں دنیا میں راہنمائی حاصل ہوئی تھی مگر اس کے برعکس وہ دنیا میں راہ راست پر گامزن نہ ہوئے، اس لیے آخرت میں انھیں جنت کا راستہ نہیں ملا۔
[66,65]﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ یعنی آیا تم نے ان کی تصدیق کر کے ان کی اتباع کی یا تم نے ان کی تکذیب کر کے ان کی مخالفت کا راستہ اختیار کیا؟ ﴿ فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَنۢۡبَآءُ يَوۡمَىِٕذٍ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی انھیں اس سوال کا جواب بن نہیں پڑے گا اور نہ انھیں صواب کا راستہ ہی ملے گا اور یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مقام پر صریح اور صحیح جواب دیے بغیر ان کی جان نہیں چھوٹے گی، یعنی اپنے احوال کے مطابق انھیں بتانا پڑے گا کہ انھوں نے ایمان اور اطاعت کے ساتھ رسولوں کی آواز پر لبیک کہی تھی مگر جب انھیں اپنے رسولوں کو جھٹلانے کے رویے، ان کے ساتھ اپنے عناد اور ان کے احکام کی مخالفت کے بارے میں معلوم ہو گا تو وہ کچھ نہیں بولیں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے کہ کیا جواب دیں خواہ جواب جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔