بلاشبہ وہ جس نے نازل کیا آپ پر قرآن البتہ وہ لوٹانے والا ہے آپ کو (آپ کے) لوٹنے کی جگہ کی طرف، کہہ دیجیے! میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ہے ساتھ ہدایت کےاوراس کو بھی جو ہے گمراہی ظاہر میں (85) اور نہیں تھے آپ امید رکھتے یہ کہ القا کی جائے گی آپ کی طرف (یہ) کتاب مگر (القا کی گئی ہے) رحمت سے آپ کے رب کی، پس نہ ہوں آپ ہرگز مدد گار کافروں کے لیے (86) اور نہ روک دیں وہ آپ کو اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے جب وہ نازل کی گئیں آپ کی طرف اور آپ بلائیں اپنے رب کی طرف اور ہرگز نہ ہوں آپ مشرکوں میں سے (87) اورنہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے کسی اور معبود کو، نہیں کوئی معبود مگر وہی، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے اسی کے لیے ہے حکم اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(88)
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ ﴾ ’’جس (اللہ) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔‘‘ یعنی جس ہستی نے آپ پر قرآن نازل کیا، اس میں احکام فرض كيے، اس میں حلال اور حرام کو واضح کیا، آپ کو اسے تمام لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا، نیز آپ کو حکم دیا کہ آپ تمام مکلفین کو ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں۔ اس اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہوتی اور بندوں کو جزا و سزا نہ دی جاتی بلکہ ضروری ہے کہ وہ آپ کو (معاد) ’’انجام کار‘‘ کی طرف لوٹائے جہاں نیکوکاروں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا۔ آپ نے ان کے سامنے ہدایت کو کھول کھول کر بیان کر دیا اور ہدایت کے راستے کو واضح کر دیا ہے اب اگر وہ آپ کی پیروی کریں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور سعادت مندی ہے اور اگر وہ آپ کی مخالفت پر ڈٹ جائیں ، اس ہدایت میں جرح و قدح کریں جسے آپ لے کر آئے ہیں اور اپنے باطل موقف کو حق پر ترجیح دیں تو بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور غیب و موجود کا علم رکھنے والی اس ہستی کی طرف سے ان کے اعمال کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا جو حق کا احقاق اور باطل کا ابطال کرتی ہے۔بنابریں فرمایا:﴿ قُلۡ رَّبِّيۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى وَمَنۡ هُوَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کا رسول (ﷺ)خود راہ راست پر گامزن اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔ اور آپ کے دشمن گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہیں ۔
[86] فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ يُّلۡقٰۤى اِلَيۡكَ الۡكِتٰبُ ﴾ یعنی آپ اس بات کے خواہش مند نہ تھے کہ یہ کتاب آپ پر نازل کی جاتی اور نہ اس کے لیے تیار تھے اور نہ اس کے درپے تھے ﴿ اِلَّا رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ تو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اور بندوں پر بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے آپ کو اس کتاب کے ساتھ مبعوث کیا، اس نے تمام جہانوں پر رحم فرمایا اور انھیں وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتے تھے، انھیں پاک کیا اور انھیں کتاب و حکمت کا علم سکھایا اگرچہ اس سے پہلے لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے رحمت کے طور پر آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ وہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے سب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل و کرم ہے، اس لیے آپ کے دل میں کسی قسم کی کچھ تنگی نہ ہو اور آپ یہ نہ سمجھیں کہ جو کچھ اس کے خلاف ہے، زیادہ درست اور زیادہ نفع مند ہے۔ ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ ظَهِيۡرًا لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی کفار کے کفر پر ان کی اعانت نہ کیجیے۔ کفار کے کفر پر منجملہ اعانت یہ ہے کہ قرآن کی کسی آیت یا حکم کے بارے میں کہا جائے کہ یہ حکمت، مصلحت اور منفعت کے خلاف ہے۔
[87]﴿وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَيۡكَ ﴾’’اور وہ تمھیں اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے کہ وہ آپ پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں ۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو آگے پہنچائیے، ان کے احکام کو نافذ کیجیے، ان کی چالوں کی پروا نہ کیجیے، کفار آپ کو ان آیات کے بارے میں فریب میں مبتلا نہ کریں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔﴿ وَادۡعُ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی اپنے رب کی طرف دعوت کو اپنا منتہائے مقصود اور اپنے عمل کی غرض و غایت بنائیے اور جو چیز بھی اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیجیے ، مثلاً: ریا، شہرت کی طلب اور اہل باطل کی اغراض کی موافقت وغیرہ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں اہل باطل کی معیت اور ان کے امور میں ان کی اعانت کی داعی ہیں ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ یعنی ان کے ساتھ ان کے شرک میں شامل ہوں نہ اس کی فرع میں ۔ شرک کی فروع سے مراد تمام گناہ ہیں ۔
[88]﴿ وَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا۔‘‘ بلکہ اپنی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رکھیے! ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی کامل اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہستی کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جس کو الٰہ بنایا جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کی عبادت کی جائے ﴿ كُلُّ شَيۡءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجۡهَهٗ﴾’’اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز مضمحل ہو کر ہلاک ہونے والی ہے تو ہلاکت کا شکار ہونے والی باطل ہستی کی عبادت بھی انتہائی باطل ہے۔﴿ لَهُ الۡحُكۡمُ ﴾ دنیا و آخرت میں اسی کا حکم نافذ ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور تمھیں صرف اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز باطل اور ہلاک ہونے والی ہے اور اللہ باقی رہنے والا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی تمام خلائق کا مرجع ہے تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ جس شخص میں ادنیٰ سی بھی عقل ہے اس کے سامنے یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ صرف اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے ایسے اعمال كيے جائیں جو اس کے تقرب کاذریعہ ہیں ، اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچا جائے اور اس چیز سے بھی بچا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عدم توبہ کی حالت میں اور گناہ اور خطاؤں کو ختم كيے بغیر حاضر ہوا جائے۔