اور وصیت کی ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر نے کی اور اگر وہ کوشش کریں تیرے ساتھ کہ شریک ٹھہرائے تو میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں تجھے اس کا کوئی علم تو نہ اطاعت کر تو ان دونوں کی، میری طرف واپسی ہے تمھاری، پس میں خبر دوں گا تمھیں اس کی جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (8)
[8] یعنی ہم نے انسان کو حکم دیا اور اس کو وصیت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے یعنی وہ اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اپنے اس رویے کی حفاظت کرے، نیز وہ اپنے قول و فعل میں والدین کی نافرمانی کرے نہ ان کے ساتھ برا سلوک کرے۔ ﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ لِتُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور اگر وہ (والدین) دونوں تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جبکہ حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں ۔‘‘ اور کسی کے پاس شرک کی صحت پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس آیت کریمہ میں شرک کے معاملے کی اہمیت کی بنا پر یہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ ﴿ فَلَا تُطِعۡهُمَا١ؕ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو ان کا کہنا نہ ماننا، تم سب کو میری ہی طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو بتاؤں گا۔‘‘ پس میں تمھارے اعمال کی جزا دوں گا۔ اس لیے تم اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ان کی اطاعت کو ہر شخص کی اطاعت پر مقدم رکھو، سوائے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت ہر چیز پر مقدم ہے۔