اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو کہتے ہیں ایمان لائے ہم اللہ پر، پھر جب ایذا دیا جاتا ہے وہ اللہ (کی راہ) میں تو بناتا ہے وہ ایذا رسانی کو لوگوں کی، مانند عذاب کی اللہ کے اور البتہ اگر آجائے مدد آپ کے رب کی طرف سے تو وہ ضرور کہیں گے، بلاشبہ ہم تو تھے تمھارے ساتھ ہی، کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا اس کو جو کچھ ہے سینوں میں جہاں والوں کے؟ (10)اور ضرور جان لے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائےاور ضرور جان لے گا منافقوں کو بھی (11)
[11,10] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ اس شخص کی آزمائش ہونا لازمی ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق ظاہر ہو جائے تو یہ بھی واضح کر دیا کہ لوگوں میں سے ایک گروہ محن و ابتلا پر صبر نہیں کر سکتا بعض تکلیفوں اور مصیبتوں پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوۡذِيَ فِي اللّٰهِ ﴾ ’’اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے اور جب ان کو اللہ (کے راستے) میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔‘‘ مار کر مال چھین کر اور عار دلا کر اسے اذیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے دین کو چھوڑ کر باطل کی طرف لوٹ آئے ﴿ جَعَلَ فِتۡنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ﴾ ’’تو لوگوں کی تکلیف (یوں )سمجھتے ہیں جیسے اللہ کا عذاب۔‘‘ لوگوں کی ایذا رسانی انھیں متزلزل کر کے ایمان سے روک دیتی ہے جیسے عذاب انھیں اس چیز سے روک دیتا ہے جو اس عذاب کی باعث بنتی ہے۔﴿ وَلَىِٕنۡ جَآءَ نَصۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكَ لَيَقُوۡلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمۡ﴾ ’’اور اگر تمھارے رب کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں ہم تو تمھارے ساتھ تھے۔‘‘ کیونکہ یہ ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے۔ یہ لوگوں کی اس صنف سے تعلق رکھتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّعۡبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرۡفٍ١ۚ فَاِنۡ اَصَابَهٗ خَيۡرُ نِ اطۡمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَاِنۡ اَصَابَتۡهُ فِتۡنَةُنِ انۡقَلَبَ عَلٰى وَجۡهِهٖ١ۚ ۫ خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ﴾(الحج:22؍11)’’اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر بھلائی پہنچے تو مطمئن ہو جاتا ہے اور کوئی مصیبت آ جائے تو الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں ہے اور یہ واضح خسارہ ہے۔‘‘﴿ اَوَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَعۡلَمَ بِمَا فِيۡ صُدُوۡرِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾’’کیا جو جہاں والوں کے سینوں میں ہے اللہ اس سے واقف نہیں ؟‘‘ اس نے تمھیں اس فریق کے بارے میں آگاہ فرمایا جن کا حال وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وصف بیان فرمایا ہے پس تم اس بات سے اس کے کامل علم اور بے پایاں حکمت کو جان سکتے ہو۔﴿ وَلَيَعۡلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَيَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ان کو ضرور معلوم کرلے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے گا۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آزمائش و ابتلا مقرر کی ہے تاکہ ان کے بارے میں اپنا علم ظاہر کرے اور ان سے جو اعمال ظاہر ہوتے ہیں ان کے مطابق ان کو جزا دے اور مجرد اپنے علم ہی پر ان کو جزاوسزا نہ دے کیونکہ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حجت پیش کریں گے کہ اگر ان کو آزمایا گیا ہوتا تو وہ بھی ثابت قدم رہتے۔