اور (ہلاک کیا ہم نے) عاد اور ثمود کو اور تحقیق واضح ہو چکا ہے تم پر (ان کا ہلاک ہونا) ان کے گھروں سے اور مزین کر دیے تھے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس اس نے روک دیا انھیں (سیدھی) راہ سے، حالانکہ تھے وہ سمجھنے والے (38) اور (ہلاک کیا) قارون اورفرعون اور ہامان کو (بھی)اور البتہ تحقیق آئے تھے ان کے پاس موسیٰ ساتھ واضح دلیلوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے زمین میں اور نہ ہوئے وہ بچ کر نکل جانے والے (عذاب سے)(39) پس ہر ایک کو پکڑا ہم نے بوجہ اس کے گناہوں کے، پس کوئی تو ان میں سے وہ ہے کہ بھیجی ہم نے اس پر پتھراؤ کرنے والی آندھی اور کوئی ان میں سے وہ ہے کہ پکڑا اسے چیخ نے اور کوئی ان میں سے وہ ہے کہ دھنسا دیا ہم نے اسے زمین میں اور کوئی ان میں سے وہ ہے کہ غرق کر دیا ہم نے (اسے) اور نہیں تھا اللہ کہ ظلم کرتا وہ ان پر لیکن تھے وہ (خود ہی) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (40)
[38] اور ہم نے عاد و ثمود کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا آپ کو ان کا قصہ معلوم ہے۔ اگر تم ان کے گھروں اور ان کے آثار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرو جن کو وہ چھوڑ گئے ہیں تو تم پر کچھ حقیقت واضح ہو جائے گی۔ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے جو بصیرت کے لیے مفید تھے مگر انھوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ جھگڑا کیا۔﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا‘‘ حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ یہ اعمال ان اعمال سے افضل ہیں جنھیں انبیاء لے کر آئے ہیں ۔
[39] قارون، فرعون اور ہامان کا یہی رویہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمرانu کو واضح دلائل اور روشن براہین کے ساتھ مبعوث کیا تو انھوں نے ان دلائل کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا بلکہ وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور انھیں ذلیل کیا اور حق کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا مگر جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس سے بچنے پر قادر نہ تھے۔﴿وَمَا كَانُوۡا سٰؔبِقِيۡنَ﴾ وہ اللہ سے بھاگ کر کہیں جا نہ سکے اور انھیں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا پڑا۔
[40]﴿ فَكُلًّا ﴾ ’’پس سب کو۔‘‘ یعنی انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان تمام قوموں کو ﴿ اَخَذۡنَا بِذَنۢۡبِهٖ﴾ ہم نے ان کے گناہ کی مقدار اور اس گناہ سے مناسبت والی سزاکے ذریعے سے پکڑ لیا۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِ حَاصِبًا﴾ ’’پس ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر ایسا عذاب نازل کیا جس میں ان کو پتھر مار کر ہلاک کیا جیسے قوم عاد، اللہ تعالیٰ نے اس پر تباہ کن آندھی بھیجی اور ﴿سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ:69؍7)اس ہوا کو سات رات اور آٹھ دن تک لگاتار چلائے رکھا تو تو ان نافرمان لوگوں کو اس میں اس طرح مرے پڑے ہوئے دیکھتا ہے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں ۔‘‘﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡهُ الصَّيۡحَةُ﴾ ’’اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا‘‘ جیسے صالحu کی قوم ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِهِ الۡاَرۡضَ﴾ ’’اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔‘‘ جیسے قارون ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا﴾ ’’اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم غرق کردیا۔‘‘ جیسے فرعون، ہامان اور ان کے لشکر ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے مناسب اور اس کے لائق نہیں کہ وہ اپنے کمال عدل اور مخلوق سے کامل بے نیازی کی بنا پر بندوں پر ظلم کرتا ﴿وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن وہ اپنے ہی نفوس پر ظلم کرتے تھے۔‘‘ انھوں نے اپنے نفوس کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا۔ کیونکہ نفوس اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پیدا كيے گئے ہیں ۔ ان مشرکین نے ان کو ایسے کاموں میں استعمال کیا جن کے لیے وہ پیدا نہیں كيے گئے۔ انھوں نے ان کو شہوات میں مشغول کر کے سخت نقصان پہنچایا جبکہ وہ اس گمان باطل میں مبتلا رہے کہ وہ ان کو فائدہ پہنچا رہے ہیں ۔