Tafsir As-Saadi
29:41 - 29:43

مثال ان لوگوں کی جنھوں نے بنائے سوائے اللہ کے (اور) کارساز (وہ) مانند مثال مکڑی کی ہیں کہ بنایا اس نے ایک گھراور بلاشبہ زیادہ کمزور سب گھروں سے البتہ گھر (جالا) ہے مکڑی کا، کاش! کہ ہوتے وہ جانتے (41) بلاشبہ اللہ جانتا ہے جس کو وہ (مشرک) پکارتے ہیں سوائے اللہ کے جو بھی ہواور وہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے (42) اور یہ مثالیں ہیں ، بیان کرتے ہیں ہم ان کو لوگوں کے لیے اور نہیں سمجھتے انھیں مگر علم والے ہی (43)

[41] یہ مثال، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کے لیے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کی عبادت بھی کرتا ہے اور اس کا مقصد ان سے عزت، قوت اور منفعت کا حصول ہے، حالانکہ حقیقت اس کے مقصود کے بالکل برعکس ہے۔اس شخص کی مثال اس مکڑی کی سی ہے جس نے جالے کا گھر بنایا ہو تاکہ گرمی، سردی اور دیگر آفات سے محفوظ رہے۔ ﴿وَاِنَّ اَوۡهَنَ الۡبُيُوۡتِ ﴾ ’’مگر سب سے کمزور گھر‘‘ ﴿ لَبَيۡتُ الۡعَنۡكَبُوۡتِ﴾ ’’مکڑی کا گھر ہوتا ہے۔‘‘ مکڑی سب سے کمزور حیوان اور اس کا گھر سب سے کمزور گھر ہے اور وہ گھر بنا کر اس میں کمزوری کے سوا کچھ اضافہ نہیں کرتی۔ اسی طرح یہ مشرکین جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے سرپرست بنا رہے ہیں ۔ ہر لحاظ سے محتاج اور عاجز ہیں ۔ یہ لوگ غیر اللہ کی اس لیے عبادت کرتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے سے عزت اور فتح و نصرت حاصل کریں مگر وہ اپنی کمزوری اور بے بسی میں اضافہ ہی کرتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے بہت سے مصالح کو ان پر بھروسہ کرتے ہوئے، ان پر چھوڑ دیا اوران سے الگ ہوگئے کہ عنقریب ان کے معبود ذمہ داری اٹھالیں گے تو ان کے معبودوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ پس انھیں ان سے کوئی فائدہ اور کوئی ادنیٰ سی مدد بھی حاصل نہیں ہو سکی۔ اگر انھیں اپنے حال کے بارے میں حقیقی علم ہوتا اور انھیں ان ہستیوں کی بے بسی کا حال بھی معلوم ہوتا تو وہ انھیں کبھی معبود نہ بناتے، ان سے بیزاری کااظہار کرتے اور رب قادر و رحیم کو اپنا والی و مددگار بناتے۔ بندہ جب اس قادر و رحیم کو اپنا سرپرست بنا کر اس پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اس کے دین و دنیا کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس کے قلب و بدن اور حال و اعمال میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کے معبودان باطل کی کمزوری بیان کرنے کے بعد اس سے زیادہ بلیغ اسلوب کی طرف ارتقا کیا، فرمایا کہ ان معبودان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں بلکہ یہ تو مجرد نام ہیں جو انھوں نے گھڑ لیے ہیں اور محض وہم و گمان ہے جس کو انھوں نے عقیدہ بنا لیا ہے۔ تحقیق کے وقت ایک عقل مند شخص پر اس کا بطلان واضح ہو جائے گا بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے … اور وہ غائب و موجود کا علم رکھنے والا ہے … کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا جس چیز کو پکارتے ہیں ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ، ان کا کوئی وجود ہے نہ وہ حقیقت میں الٰہ ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾(النجم:53؍23) ’’یہ صرف نام ہیں جن کو تم نے اور تمھارے آباء و اجداد نے گھڑ لیا ہے جس پر اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ﴾(یونس:10؍66)’’اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کچھ خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ صرف وہم و گمان کے پیرو ہیں اور وہ محض قیاس آرائیاں کررہے ہیں ۔‘‘﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام قوت کا مالک اور جو تمام مخلوق پر غالب ہے ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ جو تمام چیزوں کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے، جس نے ہر چیز کو بہترین تخلیق سے نوازا اور اس نے جو حکم دیا بہترین حکم دیا۔
[43]﴿ وَتِلۡكَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِ﴾ ’’اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ مثالیں لوگوں کے فائدے اور ان کی تعلیم کی خاطر بیان کی ہیں کیونکہ ضرب الامثال علوم کو توضیح کے ساتھ بیان کرنے کا طریقہ ہے۔ ضرب الامثال کے ذریعے سے امور عقلیہ کو امور حسیہ کے قریب لایا جاتا ہے اور مثالوں کے ذریعے سے معانئ مطلوبہ واضح ہو جاتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا يَعۡقِلُهَاۤ ﴾ مگر اس میں غوروفکر کے بعد اس میں وہی لوگ فہم حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے قلب میں عقل کے ساتھ وہی لوگ اس کی تطبیق کرتے ہیں ۔ ﴿ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ ﴾ جو حقیقی اہل علم ہیں اور علم ان کے قلب کی گہرائیوں میں جاگزیں ہے۔ یہ ضرب الامثال کی مدح و توصیف ہے نیزان میں تدبر کرنے اور ان کو سمجھنے کی ترغیب اورجو کوئی ان میں سمجھ پیدا کرتا ہے اس کی مدح و ثنا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرب الامثال استعمال کرنے والا شخص اہل علم میں سے ہے اور نیز جو ان کو نہیں سمجھتا وہ اہل علم میں شمار نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو امثال بیان کی ہیں وہ بڑے بڑے امور، مطالب عالیہ اور مسائل جلیلہ میں بیان کی ہیں ، اہل علم جانتے ہیں کہ ضرب الامثال دیگر اسالیبِ بیان سے زیادہ اہم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو درخوراعتنا قرار دیا ہے اور اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ ان میں غوروفکر کریں اور ان کی معرفت حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں ۔رہا وہ شخص جو ضرب الامثال کی اہمیت کے باوجود، ان کو نہیں سمجھتا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اہل علم میں سے نہیں ہے کیونکہ جب وہ نہایت اہم مسائل کی معرفت نہیں رکھتا تو غیر اہم مسائل میں اس کی عدم معرفت زیادہ اولیٰ ہے، بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے زیادہ تر اصول دین وغیرہ میں ضرب الامثال استعمال کی ہیں ۔