Tafsir As-Saadi
29:50 - 29:52

اور کہا انھوں نے، کیوں نہیں اتارے گئے آپ پر معجزے آپ کے رب کی طرف سے ؟ آپ کہہ دیجیے:یقیناً معجزے تو اللہ کے پاس ہیں، اور بلاشبہ میں تو ڈرانے والا ہوں ظاہر(50) کیا نہیں کافی انھیں (یہ کہ) بے شک ہم نے نازل کی آپ پر(یہ) کتاب ، وہ پڑھی جاتی ہے ان پر؟ بلاشبہ اس میں البتہ رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(51)کہہ دیجیے: کافی ہے اللہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ لوگ جو ایمان لائے باطل (جھوٹ) پر اور کفر کیا انھوں نے ساتھ اللہ کے، یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(52)

[50] جب رسول اللہ ﷺ یہ کتاب عظیم لے کر آئے تو ان ظالموں نے اعتراض کیا اور معینہ معجزات کے نزول کا مطالبہ کیا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾(بنی اسراء یل:17؍90) ’’اور انھوں نے کہا: ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو زمین کو پھاڑ کر ہمارے لیے پانی کا ایک چشمہ جاری نہ کر دے۔‘‘ معجزات و آیات کا تعین ان کے بس کی بات ہے نہ رسول (ﷺ)کے اختیار میں ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی تدابیر ہیں اور کسی کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰيٰتُ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’کہہ دیجیے! معجزات تو اللہ ہی کے پاس ہیں۔‘‘ پس اگر وہ چاہے تو یہ آیات نازل کر دے اور نہ چاہے تو روک دے۔ ﴿وَاِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور میں تو صرف کھلا خبردار کرنے والا ہوں‘‘ اور اس سے زیادہ میرا کوئی مرتبہ نہیں۔مقصد تو باطل سے حق کو واضح کرنا ہے۔ جب کسی بھی طریقے سے مقصد حاصل ہو گیا تو معین معجزات کا مطالبہ کرنا ظلم و جور، اللہ تعالیٰ اور حق کے ساتھ تکبر اور عناد ہے، بلکہ اگر رسول اللہ ﷺ ان آیات و معجزات کو نازل کرنے پر قادر ہوتے اور ان کے دلوں میں یہ بات ہوتی کہ وہ ان معجزات کے بغیر حق کو نہیں مانیں گے، تو یہ حقیقی ایمان نہیں بلکہ ایک ایسی چیز ہے جو ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہے اس لیے وہ ایمان لے آئے۔ وہ اس لیے ایمان نہیں لائے کہ وہ حق ہے بلکہ اس لیے ایمان لائے ہیں کہ ان کا معجزے کا مطالبہ پورا ہو گیا۔ فرض کیا اگر ایسا ہی ہو تو معجزات نازل کرنے کا کون سا فائدہ ہے۔
[51] چونکہ مقصد تو حق بیان کرنا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا طریقہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں؟‘‘ یعنی کیا انھیں آپ کی صداقت اور آپ کی لائی ہوئی کتاب کی صداقت کا یقین کافی نہیں؟ ﴿اَنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’کہ بلاشبہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔‘‘ یہ مختصر اور جامع کلام ہے جو واضح آیات اور بہت سے روشن دلائل پر مشتمل ہے۔جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ رسول (ﷺ)کا ان پڑھ ہونے کے باوجود مجرد قرآن ہی کا پیش کرنا، آپ کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے اس پر مستزاد اس کا انھیں مقابلہ کرنے کا چیلنج دینا اور ان کا مقابلہ کرنے میں بے بس ہونا دوسری بڑی دلیل ہے۔ پھر علانیہ ان کے سامنے اس کا پڑھا جانا، اس کا غالب و ظاہر ہونا اور یہ دعویٰ کیا جانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور رسول (ﷺ)کا ایسے حالات میں اس کو دلائل کے ذریعے سے غالب کرنا، جبکہ آپ کے انصار و اعوان بہت کم اور مخالفین اور دشمن بہت زیادہ تھے، پس ان حالات میں بھی آپ کا اس کو نہ چھپانا اور آپ کا اپنے عزم و ارادہ سے باز نہ آنا بلکہ برسرعام شہروں اور دیہات میں پکار پکار کر کہنا کہ یہ میرے رب کا کلام ہے... آپ کی صداقت کا بین ثبوت ہے۔کیا کوئی اس کے ساتھ معارضہ کر سکتا ہے، یا اس سے مقابلہ کرنے کی بات کر سکتا ہے؟ پھر گزشتہ کتابوں پر اس کی نگہبانی کرنا، صحیح باتوں کی تصدیق کرنا، تحریف اور تغیر و تبدل کی نفی کرنا اور پھر اس کا اپنے اوامر و نواہی میں راہ راست کی طرف راہنمائی کرنا، اس کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ اس نے کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دیا جس کے بارے میں عقل یہ کہتی ہو کہ کاش اس نے یہ حکم نہ دیا ہوتا اور کسی ایسی چیز سے نہیں روکا جس کے بارے میں عقل یہ کہتی ہو کہ کاش اس نے اس چیز سے نہ روکا ہوتا بلکہ یہ کتاب اصحاب بصیرت اور خرد مندوں کے نزدیک عدل اور میزان کے عین مطابق ہے۔ پھر اس کے ارشادات، اس کی ہدایت و راہنمائی اور اس کے احکام تمام حالات و زماں کے لیے جاری و ساری ہیں، نیز تمام امور کی اصلاح اسی سے ممکن ہے۔… یہ تمام چیزیں اس شخص کے لیے کافی ہیں جو حق کی تصدیق چاہتا ہے اور حق کا متلاشی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو کفایت عطا نہیں کرتا، جس کے لیے قرآن کافی نہ ہو اور ایسے شخص کو شفا سے نہیں نوازتا جس کے لیے قرآن شافی نہ ہو۔ جو کوئی قرآن سے راہنمائی حاصل کرتا ہے اور اسے اپنے لیے کافی سمجھتا ہے تو یہ اس کے لیے رحمت اور بھلائی ہے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَرَحۡمَةً وَّذِكۡرٰى لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک مومنوں کے لیے اس میں نصیحت اور رحمت ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عظیم کتاب علم کثیر، لامحدود بھلائی، تزکیۂ قلب و روح، تطہیر عقائد، تکمیل اخلاق، فتوحات الٰہیہ اور اسرار ربانیہ پر مشتمل ہے۔
[ً52]﴿قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ شَهِيۡدًا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میرے اور تمھارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔‘‘ اس لیے میں نے اسے گواہ بنایا ہے اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کا عبرتناک عذاب نازل ہو اگر اللہ تعالیٰ میری تائید اور مدد کرتا اور میرے لیے میرے تمام معاملات آسان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جلیل القدر شہادت تمھارے لیے کافی ہونی چاہیے اور اگر تمھارے دلوں میں یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت... جسے تم نے سنا ہے نہ دیکھا ہے… دلیل کے لیے کافی نہیں تو اللہ تعالیٰ ﴿يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘ میرا حال، تمھارا حال اور میری باتیں اس کے جملہ علم میں شامل ہیں۔ اگر میں نے اس پر جھوٹ گھڑا ہے، حالانکہ وہ اس کا علم رکھتا ہے اور مجھے سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے، تو یہ اس کے علم، قدرت اور حکمت میں قادح ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِۙ۰۰لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾(الحاقۃ: 69؍44-46)’’اور اگر اس نے ہم پر کوئی جھوٹ باندھا ہوتا تو ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور ، پھر اس کی رگ جاں کاٹ دیتے۔‘‘﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡبَاطِلِ وَكَفَرُوۡا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ کا انکار کیا، وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان نہ لا کر خسارے میں رہے اور چونکہ ان سے دائمی نعمتیں چھوٹ گئیں اور حق کے مقابلے میں باطل حاصل ہوا اور نعمتوں کے مقابلے میں الم ناک عذاب، اسی لیے وہ قیامت کے روز اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔