(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔الٓمّٓ(1) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، زندہ ہے، سب کو سنبھالنے والا(2) نازل کی اس نے آپ پر کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے تھیں اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل(3) اس سے پہلے، ہدایت کے لیے واسطے لوگوں کےاور نازل کیا اس نے فرقان، بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ کی آیتوں کے واسطے ان کے عذاب شدید ہےاور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا(4) بے شک اللہ، نہیں مخفی اس پر کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں(5) وہی ہے جو صورتیں بناتا ہے تمھاری رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے، خوب حکمت والا(6)
اس کی شروع کی اسی (۸۰) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انھیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔
[1] الم ۔ یہ ان حروف میں سے ہے جن کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
[2] اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی، اور اسی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قومیت کی صفات سے ہے۔ ﴿الۡحَيُّ﴾ سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین حیات کی صفات حاصل ہیں، جو ان تمام صفات کو مستلزم ہیں جن کے بغیر صفات حیات کی تکمیل نہیں ہوتی، مثلاً سمع، بصر، قدرت، قوت، عظمت، بقا، دوام اور غلبہ ﴿ الۡقَيُّوۡمُ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخود قائم ہے لہٰذا تمام مخلوقات سے بے پروا ہے۔ اور وہ سب کو قائم رکھنے والا ہے اس لیے تمام مخلوقات وجود میں آنے، تیار ہونے اور ترقی کرنے میں اس کی محتاج ہیں۔ وہی تمام مخلوقات کا مدبر اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ جسموں، روحوں اور دلوں کے تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی قیومیت اور رحمت کی بنا پر اس نے اپنے رسول محمدﷺپر وہ کتاب نازل کی، جو سب سے عظیم کتاب ہے، جس کی خبریں اور احکام سب حق ہیں۔ اس نے جو خبریں دی ہیں وہ سچی ہیں۔ جو اس نے حکم دیے ہیں وہ انصاف پر مبنی ہیں۔ اس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ بندے اس کتاب کا علم حاصل کریں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔
[4,3]﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ یعنی گزشتہ کتابوں کی تائید کرتی ہے جس مسئلہ کے حق میں قرآن فیصلہ دے وہی مقبول ہے اور جس کی یہ تردید کرے وہی ناقابل قبول ہے۔ یہ ان تمام مسائل کے مطابق ہے جن پر تمام رسولوں کا اتفاق ہے۔ ان سے اس کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اہل کتاب جب تک قرآن پر ایمان نہ رکھیں تب تک اپنی کتابوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ کیونکہ قرآن کا انکار ان کتابوں پر ایمان کو کالعدم کردیتا ہے۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’اس نے(موسیٰuپر)تورات‘‘ اور عیسیٰuپر ﴿ وَالۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’انجیل کو اتارا تھا‘‘ اس ﴿ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’قرآن کے نازل کرنے سے پہلے۔‘‘ ﴿ هُدًى لِّلنَّاسِ ﴾ لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر‘‘ ہدایت کی صفت ان تمام کے لیے ہے یعنی اللہ نے قرآن تورات اور انجیل کو لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے رہنما بنا کر نازل کیا تھا۔ جس نے اللہ کی یہ ہدایت قبول کرلی، وہ ہدایت یافتہ ہوا۔ اور جس نے قبول نہ کیا وہ گمراہ رہا۔ ﴿ وَاَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ﴾ ’’اور اس نے فرقان کو نازل کیا۔‘‘ یعنی دلائل و براہین قاطعہ، جن سے تمام مقاصد و مطالب پایہ ثبوت کو پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے مخلوق کی ضرورت کے مطابق تفصیل و تفسیر بیان کی ہے۔ جس سے احکام و مسائل نہایت واضح ہوگئے ہیں۔ لہٰذا کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اور اس پر ایمان نہ لانے والے کسی شخص کے پاس کوئی حجت و دلیل باقی نہیں رہی، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں‘‘ حالانکہ اللہ نے انھیں خوب واضح فرما دیا اور تمام شبہات کو دور فرما دیا ہے۔ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’ان کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘ جس کی شدت کا اندازہ کرنا ممکن نہیں، اور جس کی حقیقت و کیفیت معلوم نہیں ہوسکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اللہ غالب ہے‘‘ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور ﴿ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ جو اس کی نافرمانی کرے اس سے ’’بدلہ لینے والا ہے‘‘
[6,5]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخۡفٰى عَلَيۡهِ شَيۡءٌ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یقیناً اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں‘‘ یعنی اس کا علم تمام معلومات کو محیط ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ مثلاً ماؤں کے پیٹوں میں جو بچے ہیں، انھیں مخلوق کی نظریں نہیں دیکھ سکتیں، نہ لوگ ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بڑی باریک بینی سے انھیں سنبھالتا ہے اور ان سے متعلق ہر چیز کا صحیح اندازہ مقرر کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُصَوِّرُؔكُمۡ فِي الۡاَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُ ﴾ ’’وہ ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔‘‘ یعنی کامل جسم والے یا ناقص الخلقت، خوبصورت یابدصورت، مذکر یا مونث۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَؔكِيۡمُ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کا معبود ہونا، ثابت و متعین ہوتاہے اور نہ صرف اسی کا معبود ہونا بلکہ اس کے سوا پوجے جانے والوں کی الوہیت کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور اس سے نصاریٰ کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو حضرت عیسیٰuکو معبود سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حیات کاملہ اور قیومیت تامہ کا اثبات بھی ہے، جن سے تمام صفات مقدسہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی شریعتوں کا ثبوت بھی ملتا ہے اور یہ بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث تھیں۔ اور یہ کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ہدایت یافتہ اور ہدایت سے محروم۔ اور ہدایت قبول نہ کرنے والے کی سزا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی مشیئت اور حکمت کاواقع ہوکر رہنا ثابت ہوتا ہے۔