Tafsir As-Saadi
3:20 - 3:20

پھر اگر وہ جھگڑا کریں آپ سے تو کہہ دیجیے، جھکا دیا میں نے اپنا چہرہ اللہ کے لیےاور (انھوں نے بھی) جنھوں نے اتباع کیا میرا، اور کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب اور ان پڑھوں سے، کیا تم اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیریں تو یقینا ً آپ کے ذمے (صرف پیغام) پہنچا دیناہے،اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو (20)

[20] اہل کتاب کو ان کی کتابیں متحد ہوکر اللہ کے دین پر عمل کرنے کا حکم دیتی تھیں۔ انھوں نے ان کتابوں کے آنے کے بعد ظلم و زیادتی کرتے ہوئے آپس میں اختلاف کیا۔ ورنہ ان کے پاس اختلاف سے بچ کر حق کی راہ اختیار کرنے کا سب سے بڑا سبب موجود تھا۔ اسے پس پشت ڈال دینا ان کا کفر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا اخۡتَلَفَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اِلَّا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡيًۢا بَيۡنَهُمۡ١ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے۔ اللہ اس کا جلد حساب لینے والا ہے‘‘ پھر وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ بالخصوص جس نے حق کو پہچان کر ترک کیا، یہ سخت وعید اور عذاب الیم کا مستحق ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے رسولﷺکو حکم دیا کہ عیسائی اور دیگر جو لوگ اسلام پر دوسرے مذاہب کو فوقیت دیتے ہیں ان سے بحث کرتے ہوئے انھیں فرما دیں کہ ﴿اَسۡلَمۡتُ وَجۡهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ﴾ ’’میں نے اور میرے تابع داروں نے اللہ کی اطاعت میں اپنا چہرہ مطیع کردیا‘‘ یعنی میں نے اور میرے پیروکاروں نے اقرار کیا ہے، گواہی دی ہے اور اپنے مالک کے سامنے سرجھکا دیے ہیں۔ ہم نے اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب کو چھوڑ دیا ہے، ہمیں ان کے باطل ہونے پر یقین حاصل ہے۔ یہ کہہ کر آپ ان لوگوں کو مایوس کردیں جن کو تمھارے بارے میں کوئی امید ہے (کہ شاید اسلام چھوڑ کر ہمارا دین اختیار کرلیں) اور شبہات پیش آنے پر اس طرح تمھارے دین کی تجدید ہوجائے گی، اور جو شبہات کا شکار ہے اس کے خلاف حجت قائم ہوجائے گی۔ کیونکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اہل علم بندوں کو توحید کی دلیل اور گواہ کے طورپر پیش کیا ہے۔ تاکہ وہ دوسروں کے خلاف حجت بن جائیں، اہل علم کے سردار، سب سے افضل اور سب سے بڑے عالم ہمارے نبی محمدﷺہیں۔ اس کے بعد آپ کے متبعین درجہ بدرجہ عالم ہیں۔ انھیں وہ صحیح علم او رکامل عقل حاصل ہے کہ کسی اور کو ان کے برابر تو کیا، قریب تر بھی حاصل نہیں۔ جب اللہ کی توحید اور اس کے دین کی حقانیت واضح دلیلوں سے ثابت ہوچکی ہے، مخلوقات میں سے کامل ترین او رعالم ترین شخصیت نے انھیں مانا اور پیش کیا، تو اس سے یقین حاصل ہوگیا اور ہر شک و شبہ دور ہوگیا اور معلوم ہوگیا کہ اس کے سوا ہر مذہب باطل ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَقُلۡ لِّلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡاُمِّيّٖنَ﴾ ’’اہل کتاب سے (یعنی نصاریٰ اور یہود سے۔) اور ان پڑھ لوگوں سے (یعنی عرب و عجم کے مشرکین سے) کہہ دیجیے‘‘ ﴿ءَاَسۡلَمۡتُمۡ١ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا﴾ ’’کیا تم بھی اطاعت اختیار کرتے ہو پھر اگر یہ بھی تابع دار بن جائیں۔‘‘ اور تمھاری طرح ایمان لے آئیں ﴿ فَقَدِ اهۡتَدَوۡا﴾ ’’تو وہ یقیناً ہدایت پانے والے ہیں۔ جس طرح تم ہدایت یافتہ ہو۔ اس صورت میں وہ تمھارے بھائی بن جائیں گے۔ ان کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو تمھیں حاصل ہیں۔ اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو تمھارے ہیں ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اور اگر یہ روگردانی کریں‘‘ اور اسلام قبول نہ کریں اور اسلام کے مخالف مذاہب پر قائم رہیں۔ ﴿فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ﴾ ’’تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے‘‘ آپ کو آپ کا رب ضرور اجر و ثواب دے گا۔ مخالف پر حجت قائم ہوچکی۔ اس کے بعد صرف یہی چیز باقی رہ گئی ہے کہ وہ انھیں ان کے جرم کی سزا دے، اس لیے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘