آپ کہہ دیجیے، اے اللہ! اے مالک بادشاہی کے! توہی دیتا ہے بادشاہی جس کو چاہے،اور چھین لیتا ہے بادشاہی اس سے جس سے چاہے،اور توہی عزت دیتا ہے جس کو چاہے،اور تو ہی ذلت دیتا ہے جس کو چاہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہے سب بھلائی، یقیناً تو اوپر ہر چیز کے قادر ہے (26) تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور نکالتا ہے تو زندہ کو مُردہ سے اور نکالتا ہے مُردہ کو زندہ سے،اور تو رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بے حساب (27)
[27-26] اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ کہہ دیجیے ﴿اللّٰهُمَّ مٰؔلِكَ الۡمُلۡكِ﴾ ’’اے اللہ! بادشاہی کے مالک‘‘ یعنی تو بادشاہ ہے جو تمام ملکوں کا مالک ہے۔ بادشاہ کی صفت علی الاطلاق تیرے لیے ہے۔ اور آسمان کی اور زمین کی تمام سلطنت تیری ہی ہے۔ اس میں تبدیلیاں لانا اور انتظام کرنا سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ پھر چند تبدیلیاں ذکرکی ہیں جو اکیلے باری تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ فرمایا: ﴿تُؤۡتِي الۡمُلۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الۡمُلۡكَ مِمَّنۡ تَشَآءُ﴾ ’’تو جسے چاہے باشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے‘‘ اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایران کے کسریٰ بادشاہوں سے، اور روم کے قیصر بادشاہوں سے، اور ان کے پیروکاروں سے حکومت چھین کر محمدﷺکو عطا فرمائے گا۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ وللہ الحمد۔ لہٰذا حکومت کا مل جانا یا چھن جانا اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ یہ فرمان اللہ کی اس سنت کے خلاف نہیں جو اس نے کچھ تکوینی اور دینی اسباب قائم کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے حکومت باقی رہتی،ملتی اور ختم ہوجاتی ہے۔ یہ اسباب بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہیں ۔کوئی سبب مستقل بالذات نہیں۔ بلکہ تمام اسباب قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بادشاہی کے حصول کے جو اسباب مقرر کیے ہیں ان میں ایمان اور عمل صالح بھی ہیں۔ اس مقصد کے لیے چند ضروری اعمال صالحہ یہ ہیں: مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد، جو آلات تیار کرنے اور حاصل کرنے ممکن ہوں، جمع کرنا، صبر و ثبات، باہمی تنازعات سے پرہیز۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾(النور:24؍55) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے، کہ وہ انھیں زمین میں ضرور خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا‘‘ اللہ نے بتایا ہے کہ مذکورہ خلافت کے حصول کی شرط ایمان اور عمل صالح ہے۔ اور فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ۰۰۶۲ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾(الانفال:8؍62۔63) ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی اور ان کے دلوں میں محبت ڈال دی‘‘ اور فرمایا ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً فَاثۡبُتُوۡا وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ وَاصۡبِرُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾(الانفال:8؍45۔46) ’’اے مومنو! جب تم کسی جماعت کا سامنا کرو تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ نے بتایا ہے کہ مومنوں کی باہمی محبت، ثابت قدمی اور اتفاق دشمنوں پر فتح کا باعث ہے۔ اگر آپ مسلمان ملکوں کے حالات پر غور کریں تو ان کی سلطنت ختم ہونے کا بڑا سبب دین سے دوری اور باہمی افتراق ہے جس سے دشمنوں کو حوصلہ ہوا اور ان کے درمیان لڑائی ڈال دی۔ پھر اللہ نے فرمایا:﴿وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ﴾ ’’تو جسے چاہے (اپنی اطاعت کی وجہ سے) عزت دے‘‘ ﴿ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ﴾ ’’اور جسے چاہے (معصیت کی وجہ سے) ذلت دے‘‘ ﴿ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ کوئی چیز تیرے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ سب کچھ تیری قدرت اور مشیت کے تحت ہے ﴿ تُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَتُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ ﴾ ’’توہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔‘‘ جس کی وجہ سے موسم پیدا ہوتے ہیں، روشنی، دھوپ، سایہ، سکون اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ جو اللہ کی قدرت، عظمت، حکمت اور رحمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَتُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’تو نکالتا ہے جان دار کو بے جان سے۔‘‘ جیسے انڈے سے چوزہ، گٹھلی سے درخت، بیج سے کھیتی اور کافر سے مومن ۔ ﴿ وَتُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’اور نکالتا ہے بے جان کو جان دار سے۔‘‘ جیسے پرندے سے انڈا، درخت سے گٹھلی، پودے سے دانہ اور مومن میں سے کافر۔ یہ اللہ کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام اشیا مسخر ہیں، ان کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا متضاد اشیا کو پیدا کرنا اور ایک چیز میں سے اس سے متضاد چیز پیدا کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ سب مجبور و لاچار ہیں۔ ﴿وَتَرۡزُقُ مَنۡ تَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’توہی جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی دیتا ہے۔‘‘ تو جسے چاہتا ہے وہاں سے وسیع رزق دے دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور نہ اس نے کمائی کی ہوتی ہے۔ پھر فرمایا: