چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب میں سے کاش کہ وہ گمراہ کر دیں تمھیں، اور نہیں گمراہ کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں شعور رکھتے وہ(69) اے اہل کتاب! کیوں کفر کرتے ہو تم ساتھ اللہ کی آیتوں کے؟ حالانکہ تم (اس کی سچائی کی) گواہی دیتے ہو(70) اے اہل کتاب! کیوں خلط ملط کرتے ہو تم حق کو باطل کے ساتھ اور چھپاتے ہو تم حق کو حالانکہ تم جانتے ہو؟(71) اور کہا ایک گروہ نے اہل کتاب میں سے (اپنے لوگوں کو) ایمان لاؤ ساتھ اس چیز کے جو نازل کی گئی ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے، شروع دن میں اور کفر کرو دن کے آخری حصے میں، شاید کہ وہ (مسلمان بھی) پھر جائیں(72) اور نہ یقین کرو تم مگر اسی کا جو پیروکار ہے تمھارے دین کا، کہہ دیجیے، بلاشبہ ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے، (اور نہ یہ مانو) کہ دیا جائے کوئی مثل اس کے جو تم دیے گئے یا (یہ کہ) وہ جھگڑیں گے تم سے (اور غالب آجائیں گے) تمھارے رب کے پاس، کہہ دیجیے، بے شک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہےاور اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے(73) خاص کرتا ہے وہ ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتا ہےاور اللہ صاحب فضل عظیم ہے(74)
[74-69] اللہ تعالیٰ مومنوں کو اہل کتاب کے اس خبیث گروہ کی مکاریوں سے متنبہ فرما رہا ہے کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ تمھیں گمراہ کردیں۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ﴾(البقرۃ:2؍109) ’’اہل کتاب کے اکثر لوگ تمھیں ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دینے کی خواہش رکھتے ہیں‘‘ اور جسے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد بھی کرتا ہے۔ یہ گروہ بھی پوری کوشش کرتاہے کہ مومنوں کو مرتد کردے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ بری تدبیریں کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کررہے ہیں‘‘ مومنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش خود ان کی گمراہی اور عذاب میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل:16؍88) ’’جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، ہم ان کے عذاب میں عذاب کا اضافہ کردیں گے، کیونکہ وہ فساد کرتے تھے‘‘ ﴿ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور سمجھتے نہیں‘‘ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی کوشش خود انھی کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور وہ تمھارا کچھ نہیں بگاڑ رہے۔﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنۡتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ ﴾ ’’اے اہل کتاب! تم باوجود قائل ہونے کے پھر بھی اللہ کی آیات سے کیوں کفر کررہے ہو؟‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی آیات کا انکار کرنے پر کون سی چیز مجبور کرتی ہے حالانکہ تمھیں معلوم ہے کہ جس مذہب پر تم کاربند ہو، وہ باطل ہے اور محمدﷺجو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، خود تمھیں بھی اس میں شک نہیں بلکہ تم اس کی گواہی دیتے ہو اور بعض اوقات ایک دوسرے کو خفیہ طورپر یہ بات بتا بھی دیتے ہو۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس گمراہی سے روکا ہے۔ پھر دوسروں کو گمراہ کرنے پر انھیں زجروتوبیخ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کرتے ہو؟ اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟‘‘ اللہ نے انھیں حق و باطل کو خلط ملط کرنے اور حق کو چھپانے پر توبیخ کی ہے۔ کیونکہ ان دو طریقوں سے وہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب علماء حق و باطل میں امتیاز نہ کریں، بلکہ معاملہ مبہم رہنے دیں، اور جس کو ظاہر کرنا ان کا فرض ہے، اسے چھپالیں، تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا کہ حق چھپ جائے گا اور باطل عام ہوجائے گا۔ اور جو عوام حق کے متلاشی ہوں گے، انھیں ہدایت نہیں ملے گی۔ حالانکہ اہل علم سے تو یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق ظاہر کریں۔ اس کا اعلان کریں، حق کو باطل سے اور پاک کو ناپاک سے الگ کرکے واضح کردیں۔ حلال و حرام اور صحیح و غلط عقائد کو الگ الگ کردیں، تاکہ ہدایت یافتہ لوگ ہدایت پر قائم رہیں اور گمراہ حق کی طرف پلٹ آئیں او ر عناد کی وجہ سے انکار کرنے والوں پر اتمام حجت ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ۠ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُوۡنَهٗ١ٞ فَنَبَذُوۡهُ وَرَؔآءَؔ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾(آل عمران:3؍187) ’’جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنھیں کتاب دی گئی تھی کہ اسے لوگوں کے لیے بیان کریں گے، اور چھپائیں گے نہیں، تو انھوں نے اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا۔‘‘اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خبیث جماعت کے ارادوں، اور مومنوں کے خلاف سازش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ ﴾ ’’اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا: جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیاہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ‘‘ یعنی صبح کے وقت مکر اور دھوکا کرتے ہوئے ایمان کا اظہار کرو۔ اور جب شام ہو تو اسلام سے نکل جاؤ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ بھی (اپنے دین سے) پلٹ جائیں۔‘‘ پس وہ سوچیں گے اگر یہ دین صحیح ہوتا تو اہل کتاب جو اہل علم ہیں وہ اس سے نہ نکلتے۔ انھوں نے یہ چاہا، اپنے آپ کو اچھا سمجھتے اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے ہر قول و عمل میں ان کی پیروی کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ ﴿لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِـعَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’سوائے تمھارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو۔‘‘ یعنی تم صرف اپنے ہم مذہب افراد پر اعتماد کرنا، دوسروں سے اس بات کو چھپا کر رکھنا۔ اگر تم نے دوسرے مذہب والوں کو بتا دیا تو جو علم تمھیں حاصل ہے انھیں بھی حاصل ہوجائے گا، تو وہ تمھارے جیسے ہوجائیں گے یا قیامت کے دن تم سے بحث کریں گے اور رب کے پاس تمھارے خلاف گواہی دیں گے کہ تم پر حجت قائم ہوچکی تھی۔ اور تمھیں ہدایت معلوم ہوچکی تھی، لیکن تم نے اس کی اتباع نہیں کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم مومنوں کو نہیں بتائیں گے تو انھیں اس سازش کا بالکل علم نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ ان کے خیال میں علم صرف انھی کے پاس ہوسکتا ہے جس سے ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّ الۡهُدٰؔى هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے‘‘ لہٰذا ہر ہدایت یافتہ کو ہدایت اللہ ہی سے ملتی ہے۔ علم میں یا تو حق کو جاننا شامل ہے یا اسے اختیار کرنا۔ علم صرف وہی ہے جو اللہ کے رسول لائے ہیں اور توفیق صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کو علم بہت کم ملا ہے۔ اور توفیق سے وہ بالکل محروم ہیں کیونکہ ان کی نیتیں اور ارادے غلط ہیں۔ اس کے برعکس اس امت کو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے علوم و معارف بھی حاصل ہوئے ہیں اور ان پر عمل کی توفیق بھی۔ اس وجہ سے وہ دوسروں سے افضل ہوگئے۔ لہٰذا وہی رہنما قرار پائے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ امت پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، فضل تو اللہ ہی كے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہی اپنے بندوں پر ہر قسم کا احسان فرماتا ہے۔ ﴿يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ جسے چاہے اسے دے‘‘ جو اس کے اسباب اختیار کرے گا، اللہ اس کو اپنا فضل دے گا، ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اوراللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔ وہ جانتا ہے کون احسان کے قابل ہے، اسے وہ عطا فرماتا ہے اور کون اس کا مستحق نہیں، چنانچہ اسے محروم رکھتا ہے۔ ﴿ يَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرلے‘‘ یعنی اس کی وہ مطلق رحمت جو دنیا میں ہوتی ہے اور آخرت سے متصل ہے۔ اس سے مراد دین کی نعمت اور اس کی تکمیل کرنے والی چیزیں ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘ اس کے فضل کی وسعت بیان نہیں کی جاسکتی، بلکہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آسکتا۔ اس کا فضل و احسان وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک اس کا علم پہنچتا ہے۔ اے ہمارے رب! تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے کو محیط ہے۔