کہہ دیجیے، اے اہل کتاب! آؤ طرف ایسی بات کی جو برابر ہے ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان، یہ کہ نہ عبادت کریں ہم مگر اللہ ہی کی، اور نہ شریک ٹھہرائیں ہم اس کے ساتھ کسی چیز کواور نہ بنائے بعض ہمارا بعض کو رب سوائے اللہ کے، پس اگر وہ روگردانی کریں تو تم کہہ دو، گواہ رہو اس بات کے کہ بے شک ہم تو (اللہ کے) فرماں بردار ہیں(64)
[64] اللہ تعالیٰ نبیﷺسے فرماتا ہے کہ آپ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے کہہ دیجیے کہ ﴿ تَعَالَوۡا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَؔآءٍۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے‘‘ یعنی ہم اس کی بنیاد پر متحد ہوجائیں، اس سے مراد وہ بات ہے جس پر تمام انبیاء و رسل کا اتفاق ہے۔ جس کی مخالفت سوائے گمراہ اور ضدی لوگوں کے کسی نے نہیں کی ہے اور وہ بات فریقین میں سے کسی ایک کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ دونوں میں مشترک ہے۔ یہ اختلاف کے موقع پر انصاف والی بات ہے۔ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهٖ شَيۡـًٔا ﴾ ’’کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک بنائیں۔‘‘ اکیلے اللہ کی عبادت کریں۔ محبت، خوف اور امید کا تعلق صرف اسی سے رکھیں ۔ اس کے ساتھ نہ کسی نبی کو شریک کریں نہ ولی کو، نہ صنم کو نہ وثن کو، نہ حیوان کو نہ جمادات کو، ﴿ وَّلَا يَتَّؔخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہ اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنائیں‘‘ بلکہ صرف اللہ کی اور اس کے رسولوں کی اطاعت کریں۔ ہم کسی مخلوق کی بات مان کر خالق کی نافرمانی نہ کریں۔ کیونکہ یہ کام مخلوق کو خالق کامقام دینے کے مترادف ہے۔ جب اہل کتاب یا دوسرے غیرمسلموں کو اس بات کی دعوت دی جائے اور وہ تسلیم کرلیں تو وہ دوسرے مسلمانوں کے برابر ہوجائیں گے۔ ان کے حقوق و فرائض دوسرے مسلمانوں کے برابر ہوں گے۔ اگر وہ تسلیم نہ کریں تو ثابت ہوجائے گا کہ وہ اپنی خواہش نفس کے پیروکار اور معاند ہیں تو انھیں گواہ بنا کر کہہ دو کہ ہم تو مسلمان ہیں۔ اس کا فائدہ غالباً یہ ہے کہ جب تم انھیں یہ بات کہو گے اور حقیقی اہل علم تم ہی ہو، تو یہ بات ان پر مزید حجت قائم کردے گی۔ علاوہ ازیں جب تم ایمان لاکر اسلام میں داخل ہوچکے ہو تو اللہ کو دوسروں کے غیر مسلم رہنے کی پروا نہیں، کیونکہ وہ پاک نہیں، بلکہ ان کی فطرت ناپاک ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل:17؍107) ’’کہہ دیجیے! تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جنھیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے پاس تو جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔‘‘ علاوہ ازیں ایمان والے عقیدے پر شبہات وارد ہونے سے مومن پر یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کی تجدید کرے اور اپنے اسلام کا اعلان کرے۔ اور اس طرح اپنے یقین کی خبر دے اور اپنے رب کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرے۔