Tafsir As-Saadi
3:83 - 3:85

کیا پس سوائے اللہ کے دین کے یہ (کو ئی اور دین) تلاش کر رہے ہیں؟ حالانکہ اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں جو کوئی بھی ہے آسمانوں اور زمین میں خوشی اور ناخوشی سے اور اسی کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے(83) کہہ دیجیے، ہم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور ساتھ اس کے جو نازل کیا گیا ہم پر اور جو نازل کیا گیا اوپر ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اوریعقوب اور ان کی اولاد کے،اور جو دیے گئے موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء، اپنے رب کی طرف سے، نہیں فرق کرتے ہم درمیان کسی ایک کے ان میں سے،اور ہم اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں(84) اور جو کوئی تلاش کرے گا سوائے اسلام کے کوئی اور دین، تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا اس سے،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا(85)

[85-83] یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے خواہش مند اور طالب ہیں؟ یہ خواہش نہ درست ہے نہ مناسب، اس لیے کہ اللہ کے دین سے بہتر کوئی دین نہیں ﴿ وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا ﴾ ’’حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ خوشی سے ہوں یاناخوشی سے‘‘ یعنی تمام مخلوق اس کی محکوم ہے۔ ان میں سے بعض نے اپنی خوشی سے اللہ کی اطاعت قبول کرلی ہے، وہ مومن ہیں جو خوشی سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کچھ مجبوراً اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ اس میں باقی تمام مخلوقات شامل ہیں۔ حتیٰ کہ کافر بھی اللہ کی قضاء و قدر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نکل نہیں سکتے۔ تمام مخلوق اسی کے پاس واپس جائے گی، وہ ان کے درمیان فیصلے کرے گا اور انھیں جزا و سزا دے گا۔ اور تمام معاملہ، اس کے فضل کا مظہر ہوگا یا اس کے عدل کا۔اس مفہوم کی آیت سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔اللہ نے بندوں کے لیے دین اسلام پسند کیا ہے۔ جو شخص اللہ کے اس پسندیدہ دین کے علاوہ کسی اور دین پر چلے گا، اس کا عمل ناقابل قبول ہوگا۔ کیونکہ دین اسلام میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت قبول کرنا اور رسولوں کی فرماں برداری کرنا شامل ہے۔ جب تک یہ کام نہ کرے، اس وقت تک اس نے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا، اور اللہ کے ثواب کا باعث بننے والا عمل نہیں کیا۔ اور اسلام کے سوا ہر مذہب باطل ہے۔