اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اطاعت کرو گے ایک فریق کی ان لوگوں میں سے جو دیے گئے کتاب، تو لوٹا (بنا) دیں گے وہ تمھیں بعد تمھارے ایمان کے کفر کرنے والے(100) اور کیسے کفر کرو گے تم جب کہ تلاوت کی جاتی ہیں تم پر آیتیں اللہ کی اور تمھارے اندر اس کا رسول (موجود) ہے؟ اور جو مضبوط پکڑ لے اللہ (کے دین) کو، تو تحقیق ہدایت دیا گیا وہ طرف سیدھے راستے کی(101)
[101,100] چنانچہ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِيۡعُوۡا فَرِيۡقًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ يَرُدُّوۡؔكُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وہ تمھیں، تمھارے ایمان لانے کے بعد مرتد کافر بنا دیں گے۔‘‘ اس کی وجہ ان کا حسد، ظلم اور تمھیں مرتد کردینے کی شدید خواہش ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَدَّؔ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا١ۖ ۚ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَقُّ ﴾(البقرۃ:2؍109)’ ’اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے ، محض حسد و بغض کی بنا پر تمھیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی اپنے ایمان پر ثابت قدمی کا اور یقین میں ڈانواں ڈول نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب بیان کیا ہے اور یہ کہ ان کا ایمان سے پھر جانا انتہائی ناممکن ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ وَاَنۡتُمۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيۡكُمۡ رَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’اور تم کیسے کفر کرسکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے۔‘‘ یعنی رسول تمھارے اندر موجود ہیں، وہ ہر وقت تمھیں رب کی آیتیں سناتے ہیں۔ یہ واضح آیات ہیں جو بیان کردہ مسائل پر قطعی یقین کا فائدہ دیتی ہیں۔ اور یہ کہ ان سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس میں کسی بھی لحاظ سے شک کی گنجائش نہیں۔ خاص طورپر اس لیے بھی کہ اسے بیان کرنے والا وہ انسان(محمدﷺ)ہے، جو تمام مخلوق میں سب سے افضل، زیادہ عالم، زیادہ فصیح، زیادہ مخلص و خیر خواہ اور مومنوں پر زیادہ شفیق، مخلوق کو ہر ممکن طریقے سے ہدایت دینے اور ان کی رہنمائی کرنے کا انتہائی شوق رکھنے والا ہے۔ اللہ کے درود و سلام نازل ہوں آپ کی ذات اقدس پر۔ آپ نے یقیناً خیر خواہی فرمائی اور پوری وضاحت سے اللہ کا دین پہنچا دیا۔ حتیٰ کہ کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہ رہی۔ اور نیکی کے کسی طلب گار کو تلاش کی ضرورت نہ رہی، آخرمیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرے، اس پرتوکل کرے، ہر برائی سے بچاؤ کے لیے اس کی قوت و رحمت کا سہارا تلاش کرے اور ہر خیرکے لیے اس سے مدد طلب کرے ﴿فَقَدۡ هُدِيَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی‘‘ جو مطلوب منزل تک پہنچانے والی ہے۔ کیونکہ اس نے رسول اللہﷺکے اقوال، افعال اور احوال کی اتباع بھی کی، اور اللہ کا سہارا بھی حاصل کیا۔