اور جب صبح کو نکلے آپ اپنے گھر والوں (کے پاس) سے، بٹھاتے تھے آپ مومنوں کو مورچوں پر لڑائی کے لیےاور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(121) جب ارادہ کیا دو گروہوں نے تم میں سے یہ کہ وہ بزدلی کریں اور اللہ دوست تھا ان کااور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (122)اور البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بدر میں جبکہ تم کمزور تھے، پس ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم شکر کرو(123) جب کہتے تھے آپ مومنوں سے، کیا ہرگز نہ کفایت کرے گی تمھیں یہ بات کہ مدد کرے تمھاری تمھارا رب ساتھ تین ہزار فرشتوں کے، اتارے ہوئے (آسمان سے)؟ (124) کیوں نہیں (ہاں) ! اگر تم صبر کرو اور ڈرو اور وہ (دشمن) آجائے تمھارے پاس اسی دم تو مدد کرے گا تمھاری، تمھارا رب ساتھ پانچ ہزار فرشتوں کے (وہ خاص) نشان لگائے ہوں گے(125) اور نہیں کیا اس کو اللہ نے مگر خوش خبری تمھارے لیے اور تاکہ مطمئن ہو جائیں تمھارے دل ساتھ اس کےاور نہیں ہے مدد مگر اللہ ہی کی طرف سے (جو) زبردست حکمت والاہے(126)تاکہ کاٹ (ہلاک کر) دے وہ ایک گروہ کو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا یا ذلیل کرے ان کو، پس پھریں وہ نامراد ہو کر(127)
[121] یہ آیات واقعۂ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے، اور اس کے درمیان میں بدر کا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا، اور دشمن کی سازشوں سے انھیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوںمیں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لیے فرمائی تھی کہ انھوں نے صبر کیا اورتقویٰ اختیار کیا، اور احد میں انھیں دشمنوں کے ہاتھوں اس لیے نقصان پہنچا کہ ان میں سے بعض افراد سے ایسی غلطی ہوگئی جو تقویٰ کے منافی تھی، دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اللہ کو بندوں کا یہ عمل پسند ہے کہ جب انھیں کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آجائے تو انھیں وہ نعمت یاد کرنی چاہیے جو انھیں پسند ہے، تو ان کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور وہ اس بڑی نعمت پر رب کا شکر کریں گے۔ جس کے مقابلے میں یہ ظاہری مصیبت، جو حقیقت میں نعمت ہی ہے، بڑی نعمت کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿ اَوَلَمَّؔاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ﴾ ’’کیابات ہے کہ جب تمھیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے۔‘‘واقعۂ احد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب 2ھ میں جنگ بدر کے بعد بچے کھچے مشرکین مکہ پہنچے، تو انھوں نے اپنی طاقت کے مطابق مال، افراد اور اسلحہ کے ساتھ بھرپور تیاری کی، حتیٰ کہ اتنا کچھ جمع ہوگیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنا مقصود حاصل کرنے اور اپنا غصہ نکالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تب وہ تین ہزار جنگجو افراد کا لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ کے قریب آٹھہرے۔ نبی اکرمﷺنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، تو طے پایا کہ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ نبیﷺایک ہزار آدمی لے کر روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی (منافق) اپنے جیسے تین سو افراد لے کر واپس پلٹ گیا۔ اس طرح اسلامی لشکر کی تعداد میں ایک تہائی مقدار کی کمی ہوگئی۔ مومنوں کے دو گروہ بھی پلٹ جانے کا سوچنے لگے۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قبائل تھے۔ اللہ نے انھیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ جب احد کے مقام پر پہنچے تو نبیﷺنے لشکر کو ترتیب دے کر ان کے مختلف دستے اپنے اپنے مقام پر متعین فرمائے۔ احد کا پہاڑ ان کی پشت کی طرف تھا۔ انھوں نے اپنی پیٹھیں احد کی طرف رکھیں ۔ نبیﷺنے پچاس صحابہ کرام کو احد کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا، اور انھیں حکم دیا کہ وہیں ٹھہرے رہیں، اور وہ جگہ نہ چھوڑیں، تاکہ پیچھے سے دشمن کے حملہ کا خطرہ نہ رہے۔ جب مسلمانوں اور مشرکوں کے مابین جنگ ہوئی تو مشرکوں کو بری طرح شکست ہوئی، وہ اپنی لشکر گاہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرکے انھیں قتل اور قید کرنا شروع کردیا۔ جن تیر اندازوں کو نبیﷺنے پہاڑ پر متعین فرمایا تھا، جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو (انھوں نے سوچا کہ اب ہمارا فرض مکمل ہوگیا ہے، اس لیے) انھوں نے آپس میں کہا، غنیمت! غنیمت! ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں جبکہ مشرکین شکست کھاچکے ہیں۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرtنے انھیں نصیحت فرمائی کہ رسول اللہﷺکی حکم عدولی نہ کریں۔ لیکن دوسروں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ جب انھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور وہاں صرف چند افراد رہ گئے، تو مشرکین کا گھڑسوار دستہ اس گھاٹی سے آگیا اور مسلمانوں کے پیچھے آکر لشکر کے پچھلے دستے پر حملہ کردیا۔ تب مسلمان کچھ ادھر ادھر ہوئے، جو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔ جس سے ان کے گناہ معاف ہوئے، اور تعمیل حکم میں کوتاہی کی سزا مل گئی۔ اس کے نتیجے میں جن کی قسمت میں شہادت تھی، وہ شہید ہوگئے۔ آخرکار مسلمان جبل احد کی چوٹی کی طرف جمع ہوگئے۔اللہ نے مشرکین کے ہاتھوں کو روک دیا اور وہ لوگ اپنے وطن کی طرف لوٹ گئے۔ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَهۡلِكَ ﴾ ’’اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اپنے گھر سے نکلے‘‘ اس مقام پر (غدوت) کامطلب ’’مطلقاً نکلنا ہے‘‘ صبح کے وقت نکلنا نہیں۔ کیونکہ نبیﷺاور صحابہ کرامyجمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ﴾ ’’مومنوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے‘‘ یعنی آپ انھیں ترتیب دے رہے تھے۔ اور ہر ایک کو اس مقام پر ٹھہرا رہے تھے جو اس کے لیے مناسب تھا۔ اس میں نبیﷺکی عظیم تعریف ہے کہ آپ بنفس نفیس ان کو منظم فرما رہے تھے اور جنگ کے لیے مناسب مقامات پر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کی وجہ آپ کے علم و فراست کا کمال، دور اندیشی اور بلند ہمتی تھی۔ علاوہ ازیں آپ کامل شجاعت سے بہرہ ور تھے، صلوات اللہ وسلامہ علیہ ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے‘‘ جو ہر بات سنتا ہے۔ مومنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور منافقوں کی بھی۔ ہر ایک کی بات چیت سے اس کے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کے مطابق انھیں مکمل بدلہ عطا فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمھاری حفاظت کرتاہے۔ تمھارے معاملات سنوارتا ہے۔ اور تمھیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰuاور ہارونuسے بھی اسی طرح فرمایا تھا:﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍46) ’’میں تمھارے ساتھ ہوں، اور سنتا دیکھتا ہوں۔‘‘
[122] اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر مہربانی اور احسان اس طرح بھی ہوا کہ ﴿ اِذۡ هَمَّتۡ طَّآىِٕفَتٰنِ ﴾ جب مومنوں کی دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں، اور وہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے، جیسے پہلے بیان ہوا۔ اللہ نے ان پر اور تمام مومنوں پر احسان کرتے ہوئے انھیں ثابت قدمی کی توفیق بخشی، اس لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا﴾ ’’اللہ ان کا ولی اور مددگار ہے‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی خاص ولایت مراد ہے، یعنی اس کی اپنے دوستوں پر مہربانی، انھیں ایسے کاموں کی توفیق دینا جن میں ان کا فائدہ ہو، اور ایسے کاموں سے محفوظ رکھنا، جن میں ان کا نقصان ہو۔ اس کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ جب انھوں نے اس گناہ کا ارادہ کیا کہ وہ پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے چلے جائیں اور نبیﷺکو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس غلطی سے بچالیا، کیونکہ ان میں ایمان موجود تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ ﴾(البقرۃ:2؍257) ’’اللہ مومنوں کا دوست اور مددگار ہے، انھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی ذات پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے‘‘ اس میں توکل کا حکم ہے توکل کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے دل کا سہارا اللہ پر ہو۔ بندے کو اللہ پر جتنا ایمان ہوتا ہے، اس کے مطابق اس کا توکل ہوتا ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دوسروں کی نسبت مومن اللہ پر توکل کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ بالخصوص سختی اور جہاد کے موقع پر انھیں اللہ پر توکل کرنا، اس سے مدد اور فتح طلب کرنا، اپنی طاقت پر بالکل بھروسا نہ کرنا، بلکہ اللہ کی قوت اور حفاظت پربھروسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کی مدد کرتا ہے اور ان کی مصیبتیں اور مشکلات دور فرماتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
[123] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انھیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوۂ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبیﷺمدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہyکے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کوبچانے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے ’’بدر‘‘ کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی، چنانچہ انھوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کیے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۂ انفال میں ان شاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں، اس لیے فرمایا:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ‘‘ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔
[124] اے محمد(ﷺ)!یاد کیجیے جب بدر کے دن آپ مومنوں کو فتح کی خوش خبری دیتے ہوئے ان سے فرما رہے تھے: ﴿اَلَنۡ يَّكۡفِيَكُمۡ اَنۡ يُّمِدَّكُمۡ رَبُّكُمۡ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُنۡزَلِيۡنَ﴾ ’’کیا تمھارے لیے یہ کافی نہیں ہوگا کہ تمھارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمھاری مدد کرے؟‘‘
[125]﴿ بَلٰۤى١ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَيَاۡتُوۡؔكُمۡ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’بلکہ اگر تم صبر اور پرہیز گاری کرو، اور وہ اپنے اس جوش سے تمھارے مقابلے میں آئیں۔‘‘ ﴿ مِّنۡ فَوۡرِهِمۡ هٰؔذَا ﴾ کا مطلب ہے (من مقصدہم ھذا) ’’اپنے کسی ارادے اور عزم کے ساتھ‘‘ اس سے غزوۂ بدر مراد ہے۔ ﴿ يُمۡدِدۡؔكُمۡ رَبُّكُمۡ بِخَمۡسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيۡنَ ﴾ ’’تمھارا رب تمھاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا، جو نشان دار ہوں گے‘‘ یعنی ان پر بہادروں کا خصوصی نشان ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں کی مدد کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں: صبر، تقویٰ اور مشرکین کا فوری جوش و جذبہ کے ساتھ آنا۔ یہ وعدہ مذکورہ بالا فرشتوں کے بطور امداد فوج کے نازل ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن فتح اور دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی کے لیے اللہ نے پہلی دو شرطیں مقرر فرمائی ہیں۔ جیسے کہ پہلے فرمان الٰہی گزرا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کے منصوبے تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے‘‘
[126] اس کے بعد فرمایا: ﴿ وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰؔى ﴾ ’’اللہ نے اس چیز کو (یعنی فرشتے اتار کر تمھیں کمک پہنچانے کو) صرف خوش خبری بنایا ہے‘‘ تاکہ اس سے تمھیں خوشی حاصل ہو۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُكُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور اس بشارت سے تمھارے دل مطمئن ہوجائیں‘‘ ﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے‘‘ لہٰذا اپنے اسباب پر اعتماد نہ کرو۔ بلکہ اسباب صرف تمھارے دلوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ اصل فتح، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ تو اللہ کی مشیت ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کی مدد کرنے کا ارادہ فرمالے وہی فتح یاب ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس فریق کی مدد کرے جس کے پاس اسباب ہیں، جیسے عام طورپر مخلوق میں اس کی سنت جاری ہے اور اگر چاہے تو کمزور اور معمولی فریق کی مدد کرے، تاکہ اس کے بندوں کو معلوم ہوجائے کہ سب کام اس کے ہاتھ میں ہیں اور سب معاملات کا دارومدار اسی کی مرضی پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے‘‘ کوئی مخلوق اس کے آگے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ تمام مخلوقات اس کی تدبیر اور غلبے کے آگے کمزور اور مجبور ہیں۔ ﴿ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمتوں والا ہے‘‘ جو ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ بعض اوقات کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ کفار کایہ غلبہ مستقل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(سورۂ محمد:47؍4)’ ’اگر اللہ چاہتا تو خود ہی بدلہ لے لیتا، لیکن اس کا منشا یہ ہے کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے سے لے۔‘‘
[127] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد دو مقاصد کے لیے کرتا ہے۔۱۔ تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے، یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں۔ یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انھیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے یا مال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔۲۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش کریں، بلکہ اس کی انتہائی شدید حرص میں مبتلا ہوکر اپنی طاقت اور اپنا مال صرف کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ جنگ میں مومنوں کی مدد کرکے انھیں ناکام کردے، وہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں۔ بلکہ خسارہ اٹھا کر غم اور حسرت لے کر واپس چلے جائیں۔ جب آپ حالات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کی مدد کرتا ہے تو وہ ان دو امور سے خارج نہیں ہوتی۔ یا ان پر مسلمانوں کی فتح یا کفار کی اپنی کوششوں میں ناکامی۔