Tafsir As-Saadi
3:128 - 3:128

نہیں ہے واسطے آپ کے اس معاملے میں کچھ (اختیار) یا متوجہ ہو وہ (مہربانی سے) ان پر یا عذاب دے وہ ان کو، پس بے شک وہ ظالم ہیں(128)

[128] جب جنگ احد کے سنگین واقعات پیش آئے، اور نبیﷺکو سخت مصائب پیش آئے، جن کی وجہ سے اللہ نے آپ کا مقام مزید بلند فرمادیا۔ اس موقع پر آپ کا سر مبارک زخمی ہوا، اور دندان مبارک شہید ہوئے تو آپﷺنے فرمایا تھا: ’کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِیَّہُمْ‘ ’’وہ قوم کس طرح فلاح پاسکتی ہے جس نے اپنے نبی کو زخمی کردیا۔‘‘ (صحیح مسلم، الجہاد، باب غزوۃ أحد، حديث:1791)اس موقع پر آپuنے مشرکین کے سرداروں کے حق میں بددعا بھی فرمائی۔ مثلاً ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر وحی نازل فرما کر آپ کو ان کے خلاف دعا کرنے، انھیں لعنت کرنے، ان کے لیے رحمت سے دوری کی درخواست کرنے سے منع فرمادیا اور فرمایا:﴿ لَيۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَيۡءٌ ﴾ ’’آپ کے اختیار میں کچھ نہیں‘‘ آپ کے فرائض صرف یہ ہیں کہ تبلیغ کریں، مخلوق کی رہنمائی فرمائیں، اور ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ باقی معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے تدبیر فرماتا ہے۔ جسے چاہتا ہے ہدایت نصیب فرما دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ آپ انھیں بددعائیں نہ دیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہوگا تو ان کی توبہ قبول فرماکر انھیں اسلام کی نعمت عطا فرما دے گا اور اگر اس کی حکمت کا تقاضا ہوا تو انھیں ہدایت سے محروم فرما کر کفر میں پڑا رہنے دے گا۔ اس صورت میں اپنے نقصان کا باعث اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے وہی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان معین افراد کو اور دوسروں کو بھی ہدایت نصیب فرمائی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کا اختیار بندوں کے اختیار پر غالب ہے۔ بندے کا درجہ جتنا بھی بلند ہو، اس سے یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایک چیز کو بہتر سمجھ کر منتخب کرے حالانکہ بہتری اور مصلحت دوسری چیز میں ہو۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسولﷺمعاملات میں اختیار نہیں رکھتے تھے، لہٰذا دوسرے افراد بدرجہ اولیٰ اختیار سے محروم ہوں گے۔ اس میں انبیاء و اولیاء سے حاجتیں مانگنے والوں کی سخت تردید ہے۔ اور یہ وضاحت ہے کہ اس قسم کا عقیدہ رکھنا شرک فی العبادت ہے، جو ان لوگوں کی کم عقلی کو ظاہر کرتا ہے کہ جس ہستی کے ہاتھ میں سب اختیارات ہیں اسے چھوڑ کر انھیں پکارتے ہیں جو ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے، یہ بہت بڑی گمراہی ہے۔ غور کیجیے جب اللہ نے ان کی توبہ قبول کرنے کا ذکر فرمایا تو فعل کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ (یعنی یہ فرمایا کہ اللہ توبہ قبول فرماتا ہے) اس کا کوئی سبب بیان نہیں فرمایا جس کا یہ نتیجہ برآمد ہوا ہو۔ تاکہ یہ ثابت ہو کہ نعمت تو بندے پر اللہ کا خالص فضل ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ بندے کی طرف سے پہلے کوئی عمل ہوا ہو جو اس نعمت کا سبب بنے نہ کسی وسیلے کی ضرورت ہے۔ لیکن جب عذاب کا ذکر فرمایا تو ساتھ ہی ان کے ظلم کا ذکر فرمایا۔ اور فائے سببیہ کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ عذاب کا سبب ان کا ظلم ہے۔ ارشاد ہے: ﴿ اَوۡ يُعَذِّبَهُمۡ فَاِنَّهُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یاان کو عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں‘‘ تاکہ اس سے اللہ کا کامل عدل اور اس کی کامل حکمت ظاہر ہوکہ اس نے سزا کو مناسب مقام پر رکھا، اور بندے پر ظلم نہیں کیا، بلکہ بندے نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔