Tafsir As-Saadi
3:149 - 3:151

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر اطاعت کرو گے تم ان کی جنھوں نے کفر کیا تو لوٹا دیں گے وہ تمھیں اوپر تمھاری ایڑیوں کے (شرک کی طرف) پس پلٹو گے تم خسارہ پانے والے(149)بلکہ اللہ کارساز ہے تمھارا اور وہ سب سے بہترمددگار ہے(150) عنقریب ڈال دیں گے ہم دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب بہ سبب اس کے جو شریک ٹھہرایا انھوں نے اللہ کا، ایسی چیزوں کو کہ نہیں اُتاری اس نے اس کی کوئی دلیل اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا(151)

[149] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو منافقین و مشرکین کی اطاعت سے ممانعت ہے۔ کیونکہ وہ جب بھی کفار کی اطاعت کریں گے تو کفار ان کے مقابلے میں برا ارادہ ہی رکھیں گے اور ان کا قصد و ارادہ یہی ہو گا کہ وہ اہل ایمان کو کفر کی طرف لوٹا دیں جس کا انجام ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ بھی نہیں۔
[150] پھر اہل ایمان کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ ان کا مولیٰ اور حامی و ناصر ہے اور اس میں اہل ایمان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ اپنے لطف و کرم سے ان کے امور کی سرپرستی کرتا ہے اور انھیں مختلف قسم کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ وہ ہر ایک کو چھوڑ کر صرف اسی کو اپنا ولی اور مددگار بنائیں۔
[151] اللہ کی سرپرستی اور اس کی طرف سے مسلمانوں کی مدد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ ان کے دشمن کفار کے دلوں میں رعب ڈال دے گا۔ یہاں رعب سے مراد وہ خوف عظیم ہے جو کفار کو ان کے بہت سے مقاصد سے روک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرمایا وہ اس طرح کہ ’’اُحد‘‘ کے واقعہ کے بعد جب مشرکین واپس لوٹے تو (راستے میں) انھوں نے باہمی مشورہ کیا اور کہنے لگے ’’ہم کیسے واپس لوٹ سکتے ہیں۔ ہم نے ان کے بعض لوگوں کو قتل کیا اور ان کو شکست دی مگر ہم نے ان کا مکمل استیصال نہیں کیا۔‘‘ چنانچہ انھوں نے اس کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت بڑی فتح ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے فتح و نصرت، دو امور سے خالی نہیں ہوتی:(۱) اللہ تعالیٰ یا تو کفار کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ (۲) یا انھیں ذلت سے دوچار کرتا ہے اور وہ خائب و خاسر واپس لوٹ جاتے ہیں اور یہ (رعب ڈال کر انھیں ناکام لوٹا دینا) دوسری قسم سے ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو کفار کے دلوں میں رعب ڈالنے کا موجب تھا ﴿بِمَاۤ اَشۡرَؔكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا﴾ یعنی اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا لیے اور اپنی خواہشات نفس اور اپنے فاسد ارادوں کے مطابق بتوں کو رب بنا لیا۔ جس پر کوئی حجت اور برہان نہیں تھی اور اس طرح وہ اللہ واحد و رحمٰن کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ اسی وجہ سے مشرک اہل ایمان سے مرعوب ہو جاتا تھا اور اسے کوئی مضبوط سہارا حاصل نہیں تھا۔ کسی شدت اور تنگی کے وقت کوئی اس کی پناہ گاہ نہیں تھی۔ یہ اس کا دنیا میں حال ہے۔ آخرت کا حال اس سے زیادہ برا اور سخت ہو گا اس لیے فرمایا: ﴿وَمَاۡوٰىهُمُ النَّارُ﴾ یعنی ان کا ٹھکانہ جہاں یہ پناہ لیں گے، جہنم ہے، اور پھر وہاں سے نکل نہیں سکیں گے ﴿وَبِئۡسَ مَثۡوَى الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا‘‘ ان کے ظلم اور تعدی کے سبب جہنم ان کا ٹھکانہ ہو گا۔