اور کتنے ہی نبی تھے، لڑے ان کے ساتھ (مل کر) اللہ والے بہت سے، پس نہ سست ہوئے وہ بوجہ اس کے جو پہنچا ان کو اللہ کے راستے میں اور نہ انھوں نے کمزوری دکھائی اور نہ وہ دبے اور اللہ پسند کرتا ہے صبر کرنے والوں کو(146) اور نہیں تھا قول ان کا مگر یہی کہ کہا انھوں نے، اے ہمارے رب! بخش دے ہمارے لیے ہمارے گناہ اور ہماری زیادتی ہمارے اپنے کام میں اور ثابت رکھ ہمارے قدموں کو اور مدد فرما ہماری اوپر کافر قوم کے(147) پس دیا انھیں اللہ نے ثواب دنیا کا بھی اور اچھا ثواب آخرت کا بھی اور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(148)
[146] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے تسلی ہے اور ان کے فعل کی اقتدا کی ترغیب ہے اور اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ (حق و باطل کی کشمکش کا) یہ معاملہ شروع ہی سے چلا آ رہا ہے اور ازل سے اللہ تعالیٰ کی سنت جاری ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ نَّبِيٍّ﴾ ’’یعنی کتنے ہی نبی ہیں‘‘ ﴿قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوۡنَ كَثِيۡرٌ﴾ ’’جن کے ساتھ ہوکر اکثر اللہ والوں نے قتال کیا ہے۔‘‘ یعنی انبیاء کرام کے پیروکاروں کی بہت سی جماعتوں نے، جن کی انبیاء علیہ السلام نے ایمان اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے تربیت کی، جہاد کیا، پس وہ شہید ہوئے اور انھوں نے زخم کھائے ﴿فَمَا وَهَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَهُمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوۡا وَمَا اسۡتَكَانُوۡا﴾ یعنی ان کے دل کمزور ہوئے نہ ان کے بدن، اور نہ انھوں نے عاجزی اور فروتنی ظاہر کی۔ یعنی وہ دشمن کے سامنے جھکے نہیں۔ بلکہ انھوں نے صبر کیا اور ثابت قدم رہے اور اپنا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
[147] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس دعا کا ذکر فرمایا جس میں انھوں نے اپنے رب سے فتح و نصرت طلب کی ہے۔ ﴿وَمَا كَانَ قَوۡلَهُمۡ﴾ یعنی ان انتہائی مشکل مقامات پر ان کا یہی قول تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَاِسۡرَافَنَا فِيۡۤ اَمۡرِنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمارے گناہ اور وہ زیادتیاں جو ہمارے معاملے میں ہم سے سرزد ہوئی ہیں بخش دے۔‘‘ اسراف سے مراد حد سے تجاوز کر کے حرام امور میں داخل ہونا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ گناہ اور اسراف اللہ تعالیٰ کی نصرت اور توفیق کے اٹھ جانے کا سب سے بڑا سبب ہے اور گناہ اور اسراف کو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کی نصرت کے حصول کا سبب ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کیا۔ پھر انھوں نے محض اپنی جدوجہد اور اپنے صبر پر ہی بھروسہ نہیں کیا بلکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ دشمن سے مقابلہ ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی سے نوازے اور دشمن کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا کرے۔ پس اہل ایمان نے صبر کرنے، صبر کے متضاد امور کو ترک کرنے، توبہ، استغفار اور اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی دعا کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح و نصرت سے نوازا۔ اور دنیا و آخرت میں ان کا اچھا انجام کیا۔ اس لیے فرمایا:
[148]﴿فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَـوَابَ الدُّنۡيَا﴾ ’’پس دیا ان کو اللہ نے دنیا کا ثواب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں فتح و ظفر سے نوازا اور مال غنیمت عطا کیا ﴿وَحُسۡنَ ثَـوَابِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اور خوب آخرت کا ثواب‘‘ یعنی اپنے رب کی رضا کے حصول میں کامیابی، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کا عطا ہونا جو ہر قسم کے تکدر سے محفوظ ہوں گی۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ انھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے بہترین اعمال سرانجام دیے پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو بہترین جزا سے نوازا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ یعنی خالق کی عبادت اور مخلوق کے ساتھ معاملہ میں احسان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ دشمن کے ساتھ جہاد کے وقت، ان مومنین کا سا کردار اختیار کرنا بھی احسان ہے۔