Tafsir As-Saadi
3:153 - 3:154

جب چڑھے جارہے تھے تم اور نہیں مڑ کر دیکھتے تھے کسی کو اور رسول پکار رہے تھے تمھیں تمھاری پچھلی جماعت میں (کھڑے ہوئے) پس بدلے میں دیا اس نے تم کو غم پر غم تاکہ نہ غم کھاؤ تم اس پر جو فوت ہو گیا تم سے اور نہ اس (تکلیف) پر جو پہنچی تمھیں اور اللہ خبردار ہے اس سے جو تم عمل کرتے ہو(153) پھر نازل کیا اس نے تم پر بعدغم کے، امن ( یعنی ) اونگھ، ڈھانپتی تھی وہ ایک جماعت کو تم میں سے اور ایک جماعت تھی کہ فکر میں ڈال دیا تھا ان کو ان کی جانوں نے، وہ گمان کرتے تھے ساتھ اللہ کے ناحق گمان جاہلیت کا، کہتے تھے کیا ہے ہمارے لیے معاملے سے کچھ؟ کہہ دیجیے! بے شک معاملہ سب کا سب اللہ ہی کے لیے ہے، وہ چھپاتے ہیں اپنے دلوں میں وہ (بات) جو نہیں ظاہر کرتے آپ کے سامنے، کہتے ہیں اگر ہوتا ہمارے لیے معاملے سے کچھ تو نہ قتل کیے جاتے ہم یہاں، کہہ دیجیے! اگر ہوتے تم اپنے گھروں میں (بھی) تو ضرور باہر نکلتے وہ لوگ کہ لکھ دیا گیا تھا ان پر قتل ہونا، طرف اپنی قتل گاہوں کی اور تاکہ آزمائے اللہ اس میں جو تمھارے سینوں میں ہے اور تاکہ صاف کر دے ان (وسوسوں) کو جو تمھارے دلوں میں ہیں اور اللہ جانتا ہے سینوں کے راز(154)

[153] اللہ تبارک و تعالیٰ جنگ سے ان کی پسپائی کے وقت ان کا حال بیان کرتے ہوئے ان پر عتاب کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ﴾ یعنی جب تم تیزی سے بھاگے جا رہے تھے ﴿وَلَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ﴾ یعنی تم ایک دوسرے کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے بلکہ جنگ سے فرار اور نجات کے سوا تمھارا کوئی ارادہ نہ تھا اور حال یہ تھا کہ تم کسی بڑے خطرے سے بھی دوچار نہ تھے کیونکہ تم سب سے آخر میں تھے اور ان لوگوں میں سے نہ تھے جو دشمن کے قریب تھے جو بلاواسطہ میدان جنگ میں تھے، بلکہ صورت حال یہ تھی ﴿وَّالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ فِيۡۤ اُخۡرٰؔىكُمۡ﴾’’رسول تمھیں بلا رہے تھے، تمھارے پیچھے سے‘‘ یعنی رسول اللہﷺان لوگوں کو بلا رہے تھے جو پہاڑوں پر چڑھ رہے تھے ’’اے اللہ کے بندو! میرے پاس آؤ‘‘ مگر تم نے ان کی طرف پلٹ کر دیکھا نہ تم ان کے پاس رکے۔ پس میدان جنگ سے فرار فی نفسہ موجب ملامت ہے اور رسول اللہﷺکا بلانا، جو اس امر کا موجب تھا کہ اپنی جان پر بھی آپ کی پکار کو مقدم رکھا جائے، سب سے بڑی ملامت کا مقام ہے، کیونکہ تم لوگ بلانے کے باوجود آپ سے پیچھے رہے۔﴿فَاَثَابَكُمۡ﴾ یعنی اس نے تمھارے اس فعل پر تمھیں جزا دی ﴿غَمًّۢا بِغَمٍّ﴾ یعنی غم کے بعد غم۔ فتح حاصل نہ ہونے کا غم، مال غنیمت سے محروم ہونے کا غم، ہزیمت اٹھانے کا غم اور ایک ایسا غم جس نے تمام غموں کو بھلا دیا اور وہ تھا تمھارا اس افواہ کو سن لینا کہ محمدﷺکو شہید کر دیا گیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور اپنے بندوں پر حسن نظر کی بنا پر ان تمام امور کے اجتماع کو ان کے لیے بھلائی بنا دیا۔ فرمایا:﴿لِّكَيۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ﴾ یعنی جو فتح و ظفر تمھیں حاصل نہ ہو سکی۔ اس پر غمزدہ نہ ہو ﴿وَلَا مَاۤ اَصَابَكُمۡ﴾ ’’اور نہ اس پر جو تمھیں پہنچا‘‘ یعنی تمھیں ہزیمت ، قتل اور زخموں کا جو سامنا کرنا پڑا۔ اور جب تم نے اس بات کی تحقیق کر لی کہ رسول اللہﷺشہید نہیں ہوئے تو تم پر تمام مصیبتیں آسان ہو گئیں۔ تم رسول اللہﷺکے زندہ ہونے پر خوش ہو گئے آپ کی زندگی کی خبر نے ہر مصیبت اور سختی کو فراموش کر دیا۔پس ابتلا اور آزمائش میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اس کے علم، تمھارے اعمال اور ظاہر و باطن کے مکمل باخبر ہونے کے ساتھ صادر ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اللہ تمھارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِّكَيۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا مَاۤ اَصَابَكُمۡ﴾ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ غم اور مصیبت اس لیے مقدر کیے ہیں تاکہ تمھارے نفس ان مصائب کا سامنا کرنے پر آمادہ، اور ان پر صبر کرنے کے عادی ہوں اور تمھارے لیے مشقتوں کو برداشت کرنا آسان ہو جائے۔
[154]﴿ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ الۡغَمِّ ﴾ ’’پھر اتارا اس نے تم پر اس غم کے بعد‘‘ یعنی وہ غم جو تمھیں پہنچا ﴿اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغۡشٰى طَآىِٕفَةً مِّنۡكُمۡ﴾ ’’امن کو جو کہ اونگھ تھی کہ ڈھانک لیا اس نے تمھارے ایک گروہ کو‘‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت، احسان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں کو ثابت قدم رکھنے اور طمانیت میں اضافہ کا باعث تھا۔ کیونکہ خوف زدہ شخص کو، دل خوف سے لبریز ہونے کی وجہ سے اونگھ اور نیند نہیں آتی۔ جب دل سے خوف زائل ہو جاتا ہے، تب نیند آنے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ گروہ جس کو اللہ تعالیٰ نے نیند اور اونگھ سے نوازا ، اہل ایمان ہیں جن کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے، اللہ اور اس کے رسولﷺکی رضا کے حصول اور مسلمانوں کے مصالح کے سوا کوئی اور مقصد نہیں تھا۔رہا دوسرا گروہ جس کے بارے میں فرمایا:﴿قَدۡ اَهَمَّؔتۡهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’انھیں فکر میں ڈال دیا تھا ان کی جانوں نے‘‘ تو ان کے نفاق یا ان کے ایمان کی کمزوری کی بنا پر، ان کا اپنی جان بچانے کے سوا کوئی اور ارادہ نہ تھا۔ اس لیے ان کو وہ اونگھ نہ آئی جو دوسروں کو آئی تھی ﴿يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’وہ کہتے تھے، کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ میں؟‘‘ یہ استفہام انکاری ہے یعنی فتح و نصرت میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ پس انھوں نے اپنے رب، اپنے دین اور اپنے نبی کے بارے میں بدگمانی کی اور انھوں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی دعوت کو پورا نہیں کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی سمجھ لیا کہ یہ شکست اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف ایک فیصلہ کن شکست ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جواب میں فرمایا ﴿قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ﴾ ’’کہہ دو کہ تمام معاملے کا اختیار اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔‘‘ (امر) دو امور پر مشتمل ہوتا ہے:(۱) امر قدری اور(۲)امر شرعی۔پس تمام چیزوں کا ظہور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کی اطاعت کرنے والوں کے حق میں، ان چیزوں کا انجام فتح وظفر ہی ہوتا ہے خواہ ان پر کچھ بھی گزر جائے۔﴿يُخۡفُوۡنَ﴾ یعنی منافقین چھپاتے ہیں ﴿ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَّا لَا يُبۡدُوۡنَ لَكَ﴾ ’’اپنے دلوں میں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس معاملے کو واضح کر دیا جو وہ چھپاتے تھے، چنانچہ فرمایا ﴿يَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَيۡءٌ﴾ یعنی اگر اس واقعہ میں ہم سے رائے اور مشورہ لیا گیا ہوتا ﴿مَّا قُتِلۡنَا هٰهُنَا﴾ ’’تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا انکار اور اس کی تکذیب ہے اور یہ رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرام کی رائے کو بیوقوفی کی طرف منسوب کرنا اور اپنے آپ کو پاک صاف اور صحیح قرار دینا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ﴾ ’’کہہ دیں، اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے‘‘ گھر ایسی جگہ ہے جہاں قتل کا گمان بعید ترین چیز ہے۔ فرمایا ﴿لَـبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ﴾ ’’تب بھی وہ لوگ ضرور اپنے پڑاؤ کی طرف نکلتے جن کا مارا جانا لکھ دیا گیا تھا‘‘ پس معلوم ہوا کہ اسباب خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، وہ تب ہی فائدہ دیتے ہیں جب قضا و قدر معارض نہ ہو۔ جب قضا و قدر اسباب کے خلاف ہو تو اسباب کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کے جو فیصلے لوح محفوظ میں لکھ دیے ہیں وہ نافذ ہو کر رہتے ہیں۔ ﴿وَلِيَبۡتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيۡ صُدُوۡرِكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ آزمائے جو تمھارے سینوں میں (نفاق، ایمان اور ضعف ایمان) ہے۔‘‘ ﴿وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے دلوں کو (شیطانی وسوسوں اور ان سے پیدا ہونے والی مذموم صفات سے) پاک کر دے‘‘ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام (خیالات اور ارادوں) کو جانتا ہے جو دلوں کے اندر ہیں اور ان میں چھپے ہوئے ہیں۔ پس اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرے جن سے سینوں کے بھید اور معاملات کے اسرار نہاں ظاہر ہوں۔